انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 348 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 348

تفسیر حضرت خلیفہ مسح الثالث ۳۴۸ سورة الذاريات بعض کے گروہ والا خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے یہ خود ان کے حقوق ادا کرے گا یا خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جو تنظیمیں ہیں یا جو حکومتیں ہیں یا جو اقتدار ہیں وہ ان کو حقوق دیں گے۔جہاں سے میں نے شروع کیا تھا لوٹ کے پھر وہیں آ گیا۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے دولتمند اور صاحب ثروت بنایا ہے ان کے اموال میں ہر اس شخص کا حق ہے جو اپنے رب کے قائم کردہ حقوق سے محروم ہے۔خواہ وہ اس حقیقت حقوق پر سے واقف ہو، خواہ اس کا علم اس کو نہ ہو ہر صورت میں اس کا حق خدا تعالیٰ نے قائم کر دیا ہے۔ایک چھوٹی سی میں مثال لوں گا۔ایک چھوٹی سی ویسے تو میں نے بتایا بڑا وسیع مضمون ہے ہر قسم کے پر مشتمل۔وہ لوگ ہمارے ملک میں بھی ہیں۔ہمارے ملک کی اکثر آبادی ایسی ہے کہ جن کو اتنی غذائیت تو کھانا کھانے کے متعلق میں ذکر کر رہا ہوں مل جاتی ہے کہ وہ زندہ ہیں مرے نہیں بھوکوں لیکن ان کی صلاحیتوں اور استعدادوں کی کامل نشو و نما کے لئے جس قسم کی غذا کی ضرورت تھی وہ نہیں ملی۔مثلاً ہمارے ملک میں کہتے ہیں واللہ اعلم قریباً اسی فیصد کسان Small holding رکھتا ہے۔اس کے پاس بہت تھوڑی زمین ہے۔آٹھ ، دس، بارہ، چودہ ایکٹر کی اور مجھے خدا نے ہر قسم کے آدمی سے ملاپ کرنے کی توفیق دی۔اس کی تفصیل میں اس وقت نہیں جاؤں گا اور مجھے پتا ہے کہ اکثر ان میں سے اپنے بیلوں کے غلام بن کے رہ گئے ہیں یعنی اگر وہ اپنے ہل کی فکر نہ کریں۔بارہ ایکڑ کا مالک جو ہے اس کو ایک ہل چاہیے۔تین جانور چاہئیں بارہ ایکڑ میں پہلے وہ کھلاتا ہے تین جانوروں کو اپنے ورنہ تو اس کو سوکھی روٹی بھی نہ ملے۔اور ان کے پاس اپنی چارپائی بچھا کے وہاں سو جاتا ہے رات کو۔اکثریت ایسی ہے، اکثریت Small Holding کی ہے اور اکثر Small Holding والے جو ہیں بعض اچھے بھی ہیں لیکن اکثر ایسے ہیں جن کو اتنی روٹی تو مل جاتی ہے کہ وہ بھوکوں مریں نہ لیکن اتنی غذائیت ان کو نہیں ملتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جسمانی اور ذہنی اور اخلاقی اور روحانی جو طاقتیں دی تھیں ان کی کامل نشو ونماوہ کر سکے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو طاقتیں میں نے ہر فرد واحد کو دی ہیں ان کی کامل نشود نما ہونی چاہیے۔ہر فرد کی ہر طاقت کی کامل نشوونما کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے مادی یا غیر مادی وہ میں نے پیدا کر دی۔اگر وہ اس کو نہیں ملی تو کوئی اور غاصب ہے جس کے پاس ہے وہ۔اور انہی کو خدا کہتا ہے انہی کی طرف اشارہ کر کے کہ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ