انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 342 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 342

تفسیر حضرت علیلة اسبح الثالث ۳۴۲ سورة ق آیت ۳۳، ۳۴ هذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابِ حَفِيظٌ مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ۔جنت جو ہے وہ متقیوں کے قریب کی گئی ہے۔اس کے ایک معنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کئے ہیں تفسیر صغیر کے نیچے نوٹ میں کہ دین اسلام کی تعلیم کو اس طرح وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر آخری زمانہ میں بیان کر دیا جائے گا کہ انسان کا دل یہ محسوس کرے گا کہ را ہیں روشن ہو گئیں۔ان کو اختیار کرنا میرے لئے آسان ہو گیا۔اس لئے جنت میرے قریب ہوگئی۔دوری صرف فاصلہ کی نہیں ہوتی۔دوری جہالت کی بھی ہوتی ہے۔اگر ایک میل آپ نے جانا ہوتو ایک فاصلہ ہے لیکن آپ کو راستہ نہ آتا ہو۔تو وہ ایک میل جو ہے بیس میل بھی بن جاتا ہے۔بیس میل کا چکر لگا کے۔کئی ڈرائیور ہیں جن کو راستہ نہیں آتا۔ہمارے ایک ڈرائیور جب بھی ہمارے ساتھ گئے ہیں پنڈی۔راستہ بھول جاتے ہیں جو بتانا پڑتا ہے۔ایک دن وہ کہنے لگے مجھے آتا ہے راستہ، آپ نہ بتا ئیں۔تو جس جگہ ہم نے جانا تھا۔وہ اس موڑ سے بمشکل پونے میں تھی میں نے کہا اچھی بات ہے۔ہم تمہیں نہیں بتاتے لے جاؤ انہوں نے کوئی سات آٹھ میل کا چکر دیا پھر وہاں پہنچے۔تو دوری اور بعد جو ہے وہ صرف فاصلے سے نہیں ہوتا بلکہ عدم علم اور جہالت کے نتیجہ پر بھی بعد پیدا ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ جنت کی راہوں کو اتنا روشن کر دیا جائے گا کہ مومن کا دل سمجھے گا کہ جنت میرے قریب آگئی ہے۔میں اندھیروں میں بھٹکتا نہیں پھروں گا۔واضح راستے ہیں جو میرے سامنے رکھ دیئے گئے ہیں۔اگر میں ان پر چلوں تو میں اپنے رب سے امید رکھوں گا کہ وہ مجھے اپنی رضا کی جنت میں داخل کرے گا۔هُذَا مَا تُوعَدُونَ اس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔لحل آواب اس شخص کے لئے وعدہ کیا گیا ہے جو بار بار اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور شریعت کا محافظ ہے۔شریعت کے ہر حکم کو بجالا نا ضروری سمجھتا ہے۔اور اس کو یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ