انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 341
تفسیر حضرت خلیلة السبع الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ ۳۴۱ سورة ق بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة ق آیت ۱۷ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ پس ایک لحاظ سے خدا تعالیٰ قریب ہے۔جیسا کہ فرمایا کہ اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ اور پھر فرمایا وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ اور بہت سی آیات ہیں جو بتاتی ہیں کہ خدا تعالیٰ انسان کے کتنا قریب ہے گویا خدا تعالیٰ کا جو نور ہے اس کا کائنات کے ہر ذرہ سے ایک پختہ تعلق ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ تعلق قائم نہ رہے اور جہاں وہ تعلق نہ رہے وہاں فنا آ جاتی ہے۔وہ چیز جو خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرے وہ قائم نہیں رہ سکتی۔جب اس کا ئنات پر فنا آتی ہے چھوٹے پیمانے پر بھی اور بڑے پیمانے پر بھی تو وہ فنا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نور کا تعلق اس سے قطع کر لیتا ہے تب اس چیز پر فنا آ جاتی ہے لیکن اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کی رو سے انسان میں بھی خدا تعالیٰ اپنے نور کے ساتھ موجود ہے۔پس اس لحاظ سے انسان کے ساتھ اس کا بہت گہرا تعلق ہے پاکیزگی اور طہارت کے ذریعہ۔اس کے باوجود انسان کی جو مادی ترکیب ہے اور اس کا جو مادی وجود ہے وہ اپنی ہیئت کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کے نور سے اتنا دور ہے اور اتنے فاصلے پر ہے کہ اس کو پھلانگنا نہ انسان کی کسی طاقت کا کام ہے اور نہ اس کی عقل کا کام ہے، آپس میں بہت زیادہ بعد ہے۔قرب ہے تو ایسا کہ کوئی ذرہ بھی خدا کے نور سے خالی نہیں کیونکہ اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ اور بعد ہے تو اتنا کہ انسان کی کیا مجال جو یہ کہے کہ میں خدا ہوں اس سے ملتا جلتا ہوں۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۰۹،۲۰۸)