انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 338 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 338

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۳۸ سورة الحجرات فرشتوں سے کہتا ہے ان کے منہ پر مارو ان کے اعمال کیونکہ ان کے اندر ایسی کمزوریاں ہوتی ہیں جنہیں خدا تعالیٰ قبول نہیں کرنا چاہتا اور فرشتوں سے کہتا ہے ایسے اعمال کو اٹھا کر باہر پھینک دو۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم میں سے ہر شخص اپنے متعلق بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس کی دینی حالت کیا ہے حالانکہ ہر شخص اپنے متعلق سب سے زیادہ جانتا ہے تو جن لوگوں کے متعلق تم اپنے نفس کی نسبت کم جانتے ہو ان کی دینی حالت کے متعلق کس طرح فتویٰ دے سکتے ہو؟ پس کوئی شخص دوسرے کے متعلق فتوی دے ہی نہیں سکتا کہ اس کی ایمانی کیفیت کیسی ہے، خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔غرض ان آیات میں بڑا عجیب مضمون بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اتَّعَلَّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ کیا تم اپنے نفس کے متعلق ، اپنے دین کے متعلق خدا کو بتا سکتے ہو؟ جب ایسا نہیں کر سکتے تو پھر تم دوسروں کے متعلق کیسے بتا سکتے ہو کہ ان کی دینی حالت کیا ہے۔آیا ان کے اعمال کو خدا نے قبول کرلیا۔ان کے دل کی حالت کو پکے مسلمان کی حالت کے مطابق پایا اور اس کے اقرار میں کوئی بناوٹ اور کوئی تصنع نہیں پایا۔پس تم دوسرے آدمی کے متعلق کیسے کہہ سکتے ہو جب کہ اپنے متعلق بھی نہیں کہہ سکتے۔وَاللهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّبُوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِیمٌ آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز خدا تعالیٰ کے علم کامل سے پوشیدہ نہیں وہ ہر چیز کو جانتا ہے ( مگر تم نہیں جانتے )۔اسی تسلسل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَمُنُونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لَا تَسُنُّوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ فرمایا بعض لوگ تم پر اپنے اسلام کا احسان جتلاتے ہیں۔ایسے گروہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں تو نہیں ملتے۔قرآن کریم کی شریعت تو قیامت تک ممتد ہے اس لئے ایسے لوگ قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے جو اپنے اپنے وقت میں یہ احسان جتاتے رہیں گے کہ ہم قربانی کرتے ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں فدائیت اور ایثار کے نمونے پیش کرتے ہیں۔تم کس پر احسان جتاتے ہو خدا پر تو احسان نہیں جتایا جاسکتا کیونکہ تم نے جو کچھ اس کے حضور پیش کیا ہے وہ اسی نے تو تمہیں دیا تھا اسی میں سے تم نے واپس کیا تم نے خدا پر کیا احسان کیا ہے۔اگر کسی اور کی خاطر کیا ہے تو وہ تمہاری کوئی نیکی نہیں۔وہ اسلام نہیں پھر تو وہ خوشامد ہوگی۔پھر تو وہ ریا کاری ہوگی۔پھر تو وہ دنیا داری ہوگی۔وہ تقویٰ اور طہارت تو نہیں ہوگی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر یہ بات سچ ہے کہ واقع میں تم پکے اور بچے اور حقیقی مسلمان ہو اور خدا تعالیٰ