انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 333
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۳۳ سورة الحجرات شروع ہو گیا۔یہ ایک تو ہے کہ غیب کوئی نہیں، کوئی شک نہیں جو کہا گیا وہ پورا ہوگا۔جس طرح خدا کی وحدانیت کو اور اس کی قدرتوں کو، اس کے غلبہ کو، اس کی عزتوں کے سرچشمہ اور منبع کو انسان کے لئے، قرآن کریم نے کہا اگر تم عزت چاہتے ہو فطرتِ انسانی میں ہے معزز بنا، قرآن کریم نے اس کو تسلیم کیا اگر عزت چاہتے ہوتو یا درکھو کہ حقیقی عزتیں خدا تعالیٰ سے ملا کرتی ہیں۔دنیا والے جو ہیں وہ عزتیں نہیں دیا کرتے۔کبھی دیتے ہیں ایک دن اگلے دن چھین لیتے ہیں مگر وفادار اگر ہے کوئی ہستی انسان کے لئے تو وہ اللہ کی ذات ہے۔دوسری صفت بچے ایمان کی بتائی گئی ہے جہاد۔جہاد اپنے صحیح، بچے اور وسیع معنی میں بہت سے پہلو رکھتا ہے لیکن اصل جہاد یہ ہے کہ ایک مقصود زندگی ہے ہمارا اور وہ ہے خدا کو پالینا اور اس کی رحمت کے سایہ تلے اپنی زندگی گزارنا، اس کا ہو جانا، اس کے دامن کو پکڑنا اس مضبوطی کے ساتھ کہ کوئی دنیوی طاقت اس دامن کو ہمارے ہاتھ سے چھڑا نہ سکے۔تو وصلِ الہی ، رضائے الہی اس کا عبد بن جانا یہ ہماری زندگی کا مقصد ہے اور جہاد کہتے ہیں اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش اور سعی کرنا، اپنا سارا زور لگا دینا کہ ہمیں یہ مقصد حاصل ہو جائے۔خدا کہتا ہے کبھی اپنے اموال دو میری راہ میں۔اموال دے دو اسی نے دیئے تھے وہ رکھتا بھی نہیں کئی دفعہ میں پہلے کہہ چکا ہوں خدا کہتا ہے کہ کبھی میں کہتا ہوں اپنی طاقتیں جو ہیں وہ میری راہ میں خرچ کر دو، کبھی میں کہتا ہوں اپنی جان جو ہے وہ میری راہ میں خرچ کر دو۔کبھی میں کہتا ہوں اپنی عقل اور فراست کو ، فراست کی نشو ونما کو اس کی انتہا تک پہنچاؤ اور پھر میرے قدموں میں لا کے ڈال دو۔تو مالوں اور جانوں اور نفسوں کو مع ان کی تمام طاقتوں کے خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا نام جہاد ہے اور جہاد کا یہ بھی ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔بہت وسعتیں ہیں یعنی انسان کا اپنا کچھ نہ رہے سب کچھ خدا کا ہو جائے (خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۷۰۱ تا ۷۰۶) ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مومن وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یعنی اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق عطا کرتا ہے اور ابتدائی ہدایت انہیں نصیب ہوتی ہے اور اسلام کے متعلق انہوں نے تھوڑا بہت جو کچھ سمجھا ہوتا ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کر کے ہدایت کی راہ میں ترقی کرتے ہیں اور ترقی کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔ثُمَّ لَم يَرْتَابُوا پھر کوئی شک و شبہ ان کے