انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 332 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 332

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۳۲ سورة الحجرات تو خدا تعالیٰ جو ہر قسم کی طاقتیں رکھنے والا ہے جو تد بیر اس نے بتائی ہے جو جائز طریقہ ہے کام کا اس سے نہیں روکتا وہ لیکن خدا تعالیٰ کو چھوڑ کرنا جائز طریقوں کی طرف رجوع کرنا یہ شرک ہے۔ایمان باللہ بھی ہے اور مشرک بھی ہے۔قرآن کریم نے اعلان کیا ہے وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مشْرِكُونَ (يوسف: ۱۰۷) تو خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے متعلق دل میں کوئی شبہ نہ رہے۔ایک اس قدر کامل ذات اور صفاتِ حسنہ سے متصف ذات کہ انسانی دماغ تو اس کی محاورہ ہے ہمارا، گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔اتنی قدرتوں کا مالک ہے اس کو خوش رکھو۔اس زندگی میں آزمائشیں بھی ہیں دکھ بھی ہیں۔قانون دوسرا بھی چل رہا ہے مگر ہر دکھ کو وہ آرام میں تبدیل کر دیتا ہے۔اب ۱۹۷۴ء میں بڑا دکھ پہنچا جماعت کو کوئی شک نہیں۔میں نے کہا تھا ہنستے رہو اس لئے کہ ہماری ہنسی کا سر چشمہ یہ بشارت ہے کہ یہ زمانہ غلبہ اسلام کا زمانہ ہے۔اس سے بڑی اور کیا خوشخبری ہمیں مل سکتی ہے اور جماعت نے ہنستے ہوئے مسکراتے ہوئے وہ زمانہ گزار دیا اور ہر لحاظ سے اس قدر ترقی کی ہے کہ دنیوی لحاظ سے دنیا دار نگاہ دیکھتی اور حیران ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہ دعوی کہ ہمارا ایمان بھی ہے اور ہمیں شک بھی ہے کہ پتا نہیں ایسا ہوتا بھی ہے یا نہیں۔کیسے نہیں ہوگا۔جب خدا تعالیٰ نے یہ کہا اللہ پر ایمان، رسول پر ایمان، اللہ کی ذات وصفات اور جو جلوے اس کے ظاہر ہونے ہیں ان کے اوپر ایمان بغیر شک اور شبہ کے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نوع انسانی کی بہبود کی خاطر ان کے اعمال میں صلاح اور نیکی اور تقویٰ پیدا کیا گیا ہے ان کے اوپر ایمان، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کئے بغیر آپ کے نقش قدم پر چلے بغیر تقویٰ کی کوئی راہ نہیں ہے۔وہ ہے ایک راہ اور ولكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُم (الحج: ۳۸) خدا تعالیٰ کو تو تقویٰ پسند ہے پھر انعام اس سے حاصل کرلو۔تو بہت ساری ہیں چیزیں لیکن اصل یہ ہے کہ اللہ کی ذات اور صفات کا جو بیان ہمارے لئے وہ غیب ہے۔خدا ہمیں نظر نہیں آتا اس کی صفات کے جلوے بعض کو نظر آتے ہیں بعض وہ بھی نہیں پہچانتے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں کو، آپ کی رفعتوں کو ، آپ کی بزرگی کو، آپ کے حسن کو اور نورکوکون پہچانتا ہے یعنی ساری دنیا تو نہیں اس وقت پہچان رہی۔جو غیر مسلم یورپ وغیرہ کے نہیں پہچان رہے تو ہمیں بتایا گیا ہے کہ پہچانے لگیں گے وہ۔تو یہ زمانہ بھی اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ