انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 329 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 329

۳۲۹ سورة الحجرات تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث چل رہا ہے، رستے میں ایک شخص ملا اس نے سلام کیا) لَا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء : ۹۵) تمہیں تجسس کرنے کی ضرورت نہیں۔اس نے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے سلام کیا ہے۔تم اسے مومن سمجھو تجسس کا نتیجہ تب نکلتا، اگر انسان عیوب کی سزا دینے کا اختیار رکھتا اور اس کی طاقت بھی ہوتی۔تو جب نہ طاقت ہے نہ اختیار، تو بے نتیجہ ہے تجسس۔جسے طاقت حاصل ہے اور جس کے اختیار میں ہے سزا دینا یا معاف کر دینا ، وہ تو اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے، اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔جب تمہاری طاقت میں نہیں ، جب تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا اختیار نہیں دیا گیا تو تمہارا نجس کرنا بے مقصد، بے نتیجہ، اپنے وقت کا ضیاع اور دنیا میں فساد اور بدامنی اور معاشرے میں الجھن پیدا کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔اگر غور کیا جائے تو نہ کرنے والی باتیں بالواسطہ یا بلا واسطہ لغو سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۴۵۶ تا ۴۵۷) آیت ۱۵ تا ۱۸ قَالَتِ الْأَعْرَابُ أَمَنَا ۖ قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا b أسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدُخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لا يَلتُكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَ جَهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللهِ أُولَبِكَ هُمُ الصَّدِقُونَ قُلْ اتَّعَلَّمُونَ اللهَ بدِينِكُمْ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ يَمُتُونَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوا قُلْ لَا تَسُنُّوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ بَلِ b ط اللهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَيكُمْ لِلْإِيمَانِ إِنْ كُنْتُم صُدِقِينَ سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے قالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا استمنا کہ بعض ایسے مسلمان ہیں جو ایمان کا دعوی کرتے ہیں لیکن ان کے دل ایمان سے خالی ہیں، اس لئے انہیں ایمان کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں یہ اجازت ہے کہ