انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 330 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 330

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۳۰ سورة الحجرات وہ اپنے آپ کو مسلمان کہہ لیا کریں اگر چاہیں۔سوال پیدا ہوتا تھا کہ وہ مومن کون سے ہیں اور ان کی بنیادی علامات کیا ہیں کہ جن کے دل اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایمان سے خالی نہیں بلکہ ایمان سے بھرے ہوئے ہیں۔چنانچہ اسی سورۃ کی اگلی آیت جو ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ وہ کون سے مومن ہیں جن کے دل اس کے ط نزدیک ایمان سے پر ہوتے ہیں۔فرمایا إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجْهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللهِ أُولَبِكَ هُمُ الصّدِقُونَ مومن وہ ہوتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں یعنی وہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور پھر اس کے بعد کسی قسم کے شک اور شبہ میں مبتلا نہیں ہوتے اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ذریعہ سے اللہ کے رستہ میں جہاد کرتے ہیں۔یہی لوگ اپنے دعوی ایمان میں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بچے ہیں اوليك هُمُ الصدِ قُونَ۔یہاں بچے اور حقیقی مومنوں کی دو بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں۔ایک علامت تو یہ ہے کہ ثُمَّ لَم يَرْتَابُوا کسی شک اور شبہ میں نہیں رہتے۔کس چیز کے متعلق شک اور شبہ؟ اللہ تعالیٰ نے جو یہ عظیم کتاب اتاری ایک عظیم رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، تو اس میں اصولی طور پر ہمیں دو چیزیں نظر آتی ہیں۔ایک بیان ہے اللہ اور اس کی صفات کے متعلق اور ایک بیان ہے انسان کے نفس اور انسان کی جو روحانی ترقیات کے لئے ضروری چیز میں تھیں یا ضروری اعمال تھے ان کے متعلق ، جن وقتوں پر وہ اعمال صالحہ بن جاتے ہیں ان کے متعلق بڑی تفصیل سے بیان کیا۔اسے اور اس کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ اگر اعمالِ صالحہ بجالاؤ گے اور تمہارے اعمال مقبول ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں تمہارے لئے روحانی جنتوں کا انتظام کرے گا اور تم خوف و خطر سے آزاد ہو کر خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کی رضا کے حصول کے لئے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ گے۔اللہ پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی شکوک اور شبہات ہو جاتے ہیں۔مثلاً اس کو قادر مطلق بھی سمجھنا اور اس کے علاوہ کسی اور کو اپنی تکلیفوں کو دور کرنے کا یا اپنی خواہشات کو پورا کرنے کا ذریعہ بھی بنانا۔اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا وَ مَا يُؤْمِنْ أَكْثَرُهُم بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُونَ (يوسف : ۱۰۷) ایمان بھی ہے اور شرک بھی ہے ایک ہی ساتھ۔شک میں پڑ گئے نا کہ محض تو کل کافی نہیں ، تو کل باللہ کا فی نہیں قبر پہ بھی سجدہ کر لینا چاہیئے ، نا جائز پیسے دے کر بھی اپنا کام بنوالینا چاہیے، جھوٹ بول کر اپنی حفاظت کا