انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 324 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 324

۳۲۴ سورة الفتح تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث اس دوری پر تسلی یافتہ ہیں۔ان کو جب ڈرایا جائے اور تنبیہ کی جائے تو اس وقت تمہارا فرض یہ ہے کہ تم عبادات بجالانے اور نیکی کے کام کرنے میں پہلے سے بھی زیادہ سرعت کے ساتھ لگ جاؤ۔اس لئے کہ جس وقت انذار ہوتا ہے یعنی کچھ لوگ بدیوں کی طرف جھکنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی تنبیہ کے مورد ٹھہرتے ہیں قولاً یا فعلاً۔اس وقت خدا کے مومن بندہ کے دل میں شیطان یہ وسوسہ بھی پیدا کر سکتا ہے کہ تُو بہت کچھ ہے دیکھ ! دوسروں پر خدا نے اپنا قہر نازل یا مگر تجھ پر نازل نہیں کیا چنانچہ اس قسم کے شیطانی وسوسہ کے نتیجہ میں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ جو خدا کا نیک بندہ تھا اگر اسے ٹھوکر لگے تو بلعم باعور بن جاتا ہے۔ایسی صورت میں خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار اس کی نفرت اور غضب سے بدل جاتی ہے۔اس لئے ایسے حالات میں ساتھ ہی مومن کو بھی انذار کر دیا اور ہوشیار کر دیا کہ ایسے وقت میں تمہارے اندر کوئی فخر پیدا نہ ہو بلکہ تمہارے اندر پہلے سے بھی زیادہ عاجزی اور انکسار پیدا ہو۔تم اس جذبہ کو بیدار رکھنے کے لئے کثرت سے تسبیح کرو۔خدا تعالیٰ کو پاک و مطہر قرار دو اور اس حقیقت کو جان لو اور اسے ہر وقت پیش نظر رکھو کہ حقیقی پاکیزگی صرف خدا کو حاصل ہے۔خدا کے علاوہ اس کی مخلوق میں سے یا انسانوں میں سے صرف وہی پاک ہے جسے خدا پاک کرتا ہے اور جس کی پاکیزگی کا اور جس کے تزکیہ کا اور جس کی تطہیر کا خود خدا اعلان فرماتا ہے انسان اپنے زور بازو سے، اپنے نفس کی طاقتوں کے بل بوتے پر پاکیزگی حاصل نہیں کر سکتا۔غرض خدا تعالیٰ سے دور ہو جانے والوں پر جب خدا کا غضب بھڑ کے یا ان کو تنبیہ کی جائے تو دیکھنا تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور قرب کا جو مقام ہے کہیں شیطان کے ہاتھوں اسے چھینے جانے کا آغاز نہ ہو جائے ایسے موقع پر تمہیں فوراً خدا تعالی کی تشیع میں لگ جانا چاہیے۔تمہیں خدا تعالیٰ کی تسبیح کی ڈھال کے پیچھے اپنے نفسوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔اندار کے موقع پر تسبیح کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے دور ہیں اور اس کے قرب اور پیار سے محروم ہیں ان کی بداعمالیوں میں سے کچھ اعمال خدا تعالیٰ کے مقربین کو دکھ پہنچانے والے ہوتے ہیں۔اس واسطے خدا تعالیٰ انہیں ( دشمنان اسلام کو ) انذار کرتا ہے کہ ایسے کاموں سے باز آ جاؤ ورنہ قہری گرفت میں آ جاؤ گے گویا شیطان کا پہلا وار انسان کی روح پر ہے اور دوسرا وار خدا کے بندوں سے نفرت اور دشمنی کو ہوا دینا ہے یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ سے دور ہیں۔وہ اس کے پیاروں سے پیار نہیں