انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 325 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 325

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۲۵ سورة الفتح کرتے بلکہ ان سے نفرت سے کام لیتے ہیں۔وہ انہیں تنگ کرتے اور ہلاک کرنے کے منصوبے بناتے ہیں چنانچہ ایسے ہی موقعوں پر اللہ تعالیٰ ان سے مثلاً یہ کہتا ہے إِنِّي مُهِينٌ مَّنْ أَرَادَاهَا نَتَكَ لیکن ہمیں یہ فرمایا کہ تم یہ نہ سمجھنے لگ جانا کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نذیر ہیں اور اپنے سے پیار کرنے والوں سے دشمنی رکھنے والوں کو تنبیہ کرتے ہیں اس لئے ہم نے کچھ نہیں کرنا کیونکہ ہم پر وار نہیں ہوسکتا۔نہیں! تم پر دشمن کا بھی اور شیطان کا بھی دو ہر اوار ہو سکتا ہے ایسے موقع پر تم نے خدا کی پناہ ڈھونڈنی ہے اپنے علم پر بھروسہ نہیں کرنا تم نے اپنی جرات پر تکیہ نہیں کرنا کیونکہ تم خود اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں ہو۔علم و فضل اور جرات و بہادری خدا عطا فرماتا ہے۔انسان صفات کو اپنے ماں باپ سے لے کر تو نہیں آتا یا اپنے خاندان اور قبیلے سے تو ان چیزوں کو حاصل نہیں کرتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین اور عطا ہے اس لئے فرمایا کہ ایسے موقع پر اللہ کے سواکسی اور چیز پر بھروسہ نہ کرنا خدا کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا۔صفات باری کے علم و عرفان میں ترقی کرتے رہنا اور تسبیح وتحمید میں مشغول رہنا یہ اعلان کرتے ہوئے کہ صرف خدا تعالیٰ ہی ہر کمزوری سے پاک اور ہر خوبی سے متصف ہے۔گو یا خدا کا کوئی بندہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ چونکہ مجھ میں کوئی کمزوری نہیں اس لئے دشمن خدا مجھ پر غالب نہیں آ سکتا۔وہ تو یہی کہتا ہے کہ میں تو کلی طور پر کمزور ہی کمزور اور لاشی محض ہوں لیکن میں نے جس ہستی کا دامن پکڑا ہے وہ ہر کمزوری اور نقص سے پاک ہے اس کی یہ بنیادی صفت ہے کہ وہ ہر کمزوری اور عیب سے مبرا ہے میں اس قدوس ہستی کا دامن پکڑتا ہوں اور اس کی صفات کا واسطہ دے کر اس کے سامنے جھکتا اور کہتا ہوں کہ اے میرے قادر و توانا خدا! ہم میں کوئی طاقت نہیں۔نہ کوئی علم ہے نہ کوئی جتھہ ہے اور نہ کوئی جرات ہے۔کچھ بھی نہیں۔جو کچھ ہے وہ تجھ سے پایا ہے اور اس وقت تک رکھ سکتے ہیں جب تک تو چاہے اور فیصلہ فرمائے کہ ہم ان صفات سے متصف رہیں۔ان صفات سے جنہیں تو پسند کرتا اور جن سے تو محبت کرتا ہے۔( خطبات ناصر جلد پنجم ۱۵۳ تا ۱۶۴)