انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 320 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 320

۳۲۰ سورة الفتح تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث زندگی کو ایک خاص رنگ میں بدل کر رکھ دینا مقصود تھا اس پر انسان کو عمل کرنا تھا اور وہ یہی بنیادی تعلیم تھی جس کی جھلک انبیاء علہیم السلام کے ذریعہ نازل ہوتی رہی اور جو کامل طور پر حضرت محمد رسول اللہ ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نازل ہوئی۔انسان کو اس کا مظہر بننا ہے یہی انسانی زندگی کا مقصد۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بنی نوع انسان کو تعلیم دینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ صفات باری کا مظہر بننے کی کوشش کریں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے شاہد ہیں اس معنی میں بھی کہ آپ نے کامل اور اتم طور پر اپنے وجود کو صفات باری کا مظہر بنا کر دنیا کو دکھا دیا گویا آپ کا وجود صفات باری کا مظہر اتم ہونے کی وجہ سے اس حقیقت کا گواہ ہے کہ صفات باری انسان پر جلوہ گر ہوتی ہیں خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريت: ۵۷) چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں نوع انسانی نے عبد کامل کا ایک نہایت ہی حسین نمونہ دیکھا۔کوئی دوسرا انسان نہ تو ایسا حسین نمونہ پیش کر سکتا تھا اور نہ ہی اس رفعت اور عظمت کو پاسکتا تھا۔غرض جہاں تک صفات باری کا تعلق تھا اسے قرآن کریم میں بیان کر دیا۔جہاں تک صفات باری کے بیان کی غرض کا تعلق تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عملی نمونہ سے اور صفات باری کا مظہر اتم بن کر دنیا کو دکھا دیا۔گویا ہر دو اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے شاہد ہیں۔پھر اسی آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ آپ مبشر ہیں آپ دنیا کو بشارتیں دینے والے ہیں پھر آپ کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ آپ نذیر ہیں۔آپ دنیا کو ڈرانے والے، انتباہ کرنے والے اور بدیوں اور بد اعمالیوں سے روکنے والے ہیں جو باتیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد بنا دیتی ہیں ان کو بتا کر دنیا کو ان سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تین بنیادی صفات ہیں جو اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں اس کے مقابل امت مسلمہ پر (چونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے نتیجہ میں نوع انسانی کی بہترین نمائندہ ہے اس لئے اس پر ) تین ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں چونکہ آپ شاہد ہیں