انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 319
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۱۹ سورة الفتح قدر اور اس قسم کا بیان پہلی کتب میں نہیں پایا جاتا تھا اس لئے کہ ابھی نوع انسانی انفرادی اور اجتماعی ہر دو اعتبار سے ارتقائی مدارج کو طے کر کے اس انتہائی رفعت تک نہیں پہنچی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ امت مسلمہ کے لئے مقدر تھی کیونکہ نوع انسان انتہائی رفعت کی تدریجی طور پر ترقی کر رہی تھی حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ انسان نے خدا کی صفات کے اپنے حالات اور استعداد کے مطابق کچھ جلوے دیکھے اور اس نور سے خود کو منور کیا۔پھر دیگر انبیاء علیہم السلام ( شرعی بھی اور غیر شرعی بھی ) مبعوث ہوتے رہے اور وہ نوع انسان کو روحانی لحاظ سے ترقی پر ترقی دے کر ارتقاء کے مختلف مدراج میں سے گزارتے ہوئے اس درجہ تک لے آئے جس میں نوع انسانی نے (جس کی امت مسلمہ نمائندہ ہے ) حضرت نبی اکرم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ داخل ہونا تھا۔پس قرآن کریم میں جس رنگ میں صفات باری کا ذکر ہے اس رنگ میں پہلی امتوں کے سامنے ذکر نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ وہ اس کی حامل نہیں بن سکتی تھیں ان کے اندر اس کی استعداد اور طاقت نہیں پائی جاتی تھی۔غرض تعلیمی لحاظ سے قرآن کریم نے خدا تعالیٰ کی صفات پر گواہی دی۔قرآن کریم نے ہر صفت کو لیا اور پھر آگے اس کی تفصیلات کو بڑی وضاحت سے بیان کیا اس کے لئے شواہد پیش کئے۔خدا تعالیٰ کی بعض ایسی بنیادی صفات ہیں (اشارہ ہی کر سکوں گا کیونکہ نفس مضمون کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ) جن کا تعلق سب صفات باری سے ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے سورۃ ملک میں بیان فرمایا ہے کہ تمام صفات باری کی بنیادی صفت یہ ہے کہ ان کے جلووں میں انسان کو کبھی تضاد نظر نہیں آئے گا چنانچہ صفات باری کے جو مختلف جلوے نوع انسانی پر نازل ہوتے ہیں ان پر اجتماعی نظر ڈالی جائے تو واقعی ان کے اندر کوئی تضاد نظر نہیں آتا اس لئے کہ تضاد کا نہ ہونا صفات باری کی ایک بنیادی صفت ہے میرے خیال میں (جس رنگ میں قرآن کریم نے ان کو پیش کیا ہے اس رنگ میں ) پہلی شرائع میں اس قسم کی بنیادی صفات کا ذکر بھی کوئی نہیں ہوگا کیونکہ پہلے انسان کی روحانی حس اور روحانی شعور اس قابل نہیں تھا کہ ان باریکیوں کو سمجھ سکے۔غرض ایک تو تعلیم کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے شاہد یا گواہ کے طور پر ہیں اور دوسرے آپ گواہ ہیں اپنے عمل کے لحاظ سے، اپنے نمونہ کے لحاظ سے کیونکہ صفات باری کا بیان نوع انسانی کے لئے محض ایک فلسفیانہ مضمون کے طور پر نہیں ہے بلکہ اس بیان میں انسان کی