انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 318 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 318

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۱۸ سورة الفتح لیں۔آپ نے فرمایا میں خدا کا پیغام لے کر تمہاری طرف آیا تھا۔تم نے مجھے قبول نہیں کیا اور تم نے ہماری جائیدادوں پر قبضہ کر لیا اور ہمیں مکہ سے باہر نکال دیا۔اب میں خدا کی صفت مالکیت کا مظہر اتم ہونے کی حیثیت میں تمہارے پاس آیا ہوں۔یہ جائیدادیں یہ مال و متاع یہ کوٹھیاں یہ حویلیاں سب تمہیں دیتا ہوں۔یعنی مالک ہونے کے لحاظ سے یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ کسی چیز کا بھی تم سے بدلہ نہیں لیا جائے گا۔جاؤ خدا کی فوج میں داخل ہو جاؤ اور خدا کی نعمتوں پر شکر بجالاؤ۔پس قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاروں ام الصفات کے کامل اور اتم طور پر مظہر ہیں۔یہ چاروں صفات وہ ہیں جس کا بیان ہمیں سورۃ فاتحہ میں نظر آتا ہے۔ایک حدیث بھی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے لوائے حمد عطا کیا گیا ہے اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ آپ ان صفات باری کے مظہر اتم تھے جو بنیادی طور پر سورہ حمد میں پائی جاتی ہیں۔اُن کا آپ کو جھنڈ ا عطا کیا گیا ہے۔خطابات ناصر جلد اول صفحه ۵۹۲، ۵۹۳) آیت ۱۰۹ إِنَّا اَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا لِتُؤْمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا یہ دو آیات جو اس وقت میں نے تلاوت کی ہیں۔ان میں سے پہلی آیت میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین صفات بیان ہوئی ہیں یا تین بنیادی کام جو آپ کے سپر د ہیں ان کا ذکر ہے جبکہ دوسری آیت میں تین بنیادی ذمہ داریوں کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین صفات کے نتیجہ میں امت مسلمہ پر عائد ہوتی ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے رسول ! ہم نے تجھے شاہد بنا کر مبعوث کیا ہے شاہد کے معنے صفات باری پر گواہ کے ہیں اور یہ گواہی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دوطور پر دی گئی ہے ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے لحاظ سے اور دوسری آپ کے اسوہ حسنہ کے لحاظ سے۔صفات باری کے تعلق میں تاریخ نے پہلے انبیاء کی جو تعلیمات محفوظ کی ہیں اگر ان کا قرآن عظیم سے موازنہ کیا جائے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ جس قدر وضاحت کے ساتھ جس قدر وسعت کے ساتھ جس قدر حسن کے ساتھ اور جس قدر دل موہ لینے والے انداز میں قرآن کریم نے صفاتِ باری کو بیان کیا ہے،اس