انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 312
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۱۲ سورة محمد محروم رہ جاتے تم اپنی پیدائش سے بھی پہلے فقیر تھے اور تمہارا رب تو ہمیشہ سے، ازل سے غنی ہے اور ابد تک غنی رہے گا لیکن کسی زمانہ کو بھی کیوں نہ لوتمہارا فقر، تمہاری احتیاج اپنے رب کی طرف تمہیں لاحق رہتی ہے تو جب تمہار اغنی، جب تمہار اسخی ، جب تمہارا دیالو، جب تمہارا نبخشن ہار رب تمہارے دروازہ پر آ کر تمہارے اموال کا مطالبہ کرتا ہے تو اس میں تمہارا ہی فائدہ اسے مدنظر ہوتا ہے اس کا اپنا کوئی فائدہ اس کے اندر نہیں ہوتا اور اگر تم اس آواز پر لبیک نہ کہو اور قربانیوں کو دینے کے لئے اور ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اس میں تمہارا اپنا نقصان ہے اور کسی کا نقصان نہیں ہے۔اور وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ یا درکھو اگر تم ایمان اور تقویٰ کو اختیار کرنے سے اعراض کرو اور انفاق فی سبیل اللہ کی طرف متوجہ نہ ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اسلام کی حمایت تو ضرور کرے گا اور اسلام کی حمایت میں اس دنیا میں جو اسباب کی دنیا ہے بہر حال غلبہ اسلام کے سامان وہ پیدا کرے گا اگر تم بخل سے کام لو گے تو وہ ایسی قوم پیدا کر دے گا جن کے دلوں میں بخل نہیں ہوگا خدا اور اس کے رسول اور اس کے دین کے لئے وہ اپنے مالوں کی قربانیاں کچھ اس طرح دیں گے کہ دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیں گے۔اسلام کی حفاظت کا تو اس نے وعدہ کیا ہے وہ حفاظت تو اسلام کوملتی رہے گی تم نے اس مہم میں حصہ لے کر خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنا ہے یا نہیں کرنا یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔اگر اللہ کی آواز پر لبیک کہو گے تو اس کی رضا تمہیں مل جائے گی اور وہ نعمتیں تمہیں میسر آئیں گی کہ آج اس دنیا میں تمہارے تخیل میں بھی وہ نہیں آسکتیں۔تمہارا ذہن بھی ان اشیاء تک نہیں پہنچ سکتا جن سے تمہاری جھولیاں اُخروی زندگی میں بھر دی جائیں گی تمہیں روحانی سیری نصیب ہوگی تمہارے دل میں جو خواہش پیدا ہوگی وہ نیک ہوگی اور وہ پوری کر دی جائے گی۔تمہیں اپنے رب سے کبھی غلط قسم کا گلہ بھی پیدا نہیں ہوگا لیکن اگر تم اعراض کر جاؤ پیٹھ پھیر جاؤ تو ایک اور قوم اللہ تعالیٰ پیدا کر دے گا۔تھم لا يكونوا أمثالكم پھر وہ تمہارے جیسے نہیں ہوں گے۔وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمُ اس حصہ آیت میں ایک پیشگوئی ہوئی ہے جو بڑی شان سے پوری ہوئی اور جیسا کہ میں نے بتایا اس آیت میں تین زمانے مخاطب ہیں پہلی تین صدیاں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عام طور پر اکثریت ایسے لوگوں کی ہوگی جو دین