انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 308 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 308

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۰۸ سورة محمد استحقاق کے نتیجہ میں ) تمہیں عطا کرے گا۔اور یہ اجر جو ہے وہ اس شکل میں ہوگا کہ وہ باقی رہے گا اور جو تو اب تمہیں ملے گا وہ بھی باقی اور دائم رہنے والا ہوگا تمہیں باقیات الصالحات دیئے جائیں گے اور تم اللہ تعالیٰ کی حقیقی نعمتوں اور ابدی حیات کے وارث بن جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن چیزوں کا تم سے مطالبہ کیا جاتا ہے ان میں تمہارے اوقات بھی ہیں ،ان میں تمہاری عزتیں بھی ہیں، ان میں تمہاری لذتیں اور آرام بھی ہیں، ان میں تمہاری وجاہتیں بھی ہیں، ان میں تمہارا وقار بھی ہے اور ان میں تمہارے اموال بھی ہیں اور چونکہ اموال کا مطالبہ کیا جاتا ہے اس لئے شیطان فوراً بیچ میں آکو دتا ہے اور انسان کو بہکانے لگتا ہے لیکن وَلَا يَسْتَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ وه مالک حقیقی جو تمہیں بہترین اجر دینے والا ہے وہ (نعوذ باللہ ) ایک سائل کے طور پر، وہ ایک بھیک منگے وہ اور فقیر کے طور پر تو تمہارے دروازے کے آگے کھڑا نہیں ہوتا انفاق فی سبیل اللہ کے مطالبہ کے وقت تمہارا رب بطور سائل، فقیر اور بھیک منگے کے طور پر تمہارے دروازہ پر نہیں آتا وہ تو ایک غنی اور ایک سخی اور ایک دیا لوہستی کی حیثیت میں تمہارے دروازے پر آتا ہے اور اپنی رحمت کے جوش میں خود چل کر تمہارے پاس آتا ہے وہ اس لئے آتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں نے ان بندوں کو اپنے قرب اور اپنی رضا کے لئے پیدا کیا تھا اس لئے اب میں ان کو وہ رستے بھی دکھاؤں گا کہ جن پر چل کر وہ میری رضا کو حاصل کر سکیں اور میرے قرب کو پاسکیں اس غرض سے وہ تمہارا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے شیطان کہتا ہے کہ خدا فقیر ہے وہ تمہارے اموال مانگنے آیا ہے لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے میں سخی ہوں، میں غنی ہوں، میں دیا لو ہوں، میں اس لئے آیا ہوں کہ میں تمہیں کچھ دوں میں اس لئے نہیں آیا کہ تم سے تمہارے اموال جس طرح ایک فقیر لیتا ہے اس طرح لے لوں۔تو اللہ تعالیٰ جب ہمارا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنے مالوں کی قربانیاں میری راہ میں دو تو ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اس سے کہیں زیادہ میں تمہیں واپس لوٹاؤں گا۔میں تمہیں اَضْعَافاً مضعَفَةٌ دوں گا۔تم دنیا کی فانی چیزیں جو میری ہی عطا ہیں میرے قدموں میں لا رکھو ابدی نعمتیں ان کے بدلہ میں تمہیں دی جائیں گی، میری رضا تمہیں ملے گی اور میری جنت میں تم داخل ہو گے تمہارا ثواب اور تمہارا اجر اپنی کمیت اور کیفیت میں اس سے کہیں بڑھ کر ہے جو وہ تم سے اموال کی شکل میں لیتا ہے۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ جو کچھ وہ ہم سے لیتا ہے وہ ہم اپنے گھر سے تو نہیں لاتے بلکہ وہ بھی تو اس کی عطا ہے۔اس نے ہی وہ اپنے فضل