انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 296 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 296

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۲۹۶ سورة محمد ہے اور مفردات راغب ہمیں بتاتی ہے کہ جب قرآن کریم نے یہ محاورہ استعمال کیا ہو کہ انسان اگر اللہ کی مدد کرے۔وہ اللہ جو کہ قادر مطلق اور غنی اور بے نیاز ہے اس کو اللہ کی مددملتی ہے تو جب یہ محاورہ استعمال کیا گیا ہو کہ جو شخص اللہ کی مدد کرے تو یہ نتیجہ نکلے گا یاوہ نتیجہ نکلے گا تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کا محتاج ہے بلکہ اس کے معنی ہوتے ہیں۔اول یہ کہ اس کے بندے کی مدد کرے۔دوسرے یہ کہ اس کے دین کی مدد کرے۔تیسرے یہ کہ اپنی مدد کرے اللہ کی قائم کردہ حدود کی حفاظت کرنے سے اپنی مدد کرے اس عہد کی رعایت کرنے سے جو اس نے اپنے رب سے باندھا ہے پس اللہ کی مدد کرنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اللہ کے احکام کا جوا اپنی گردن پر رکھ لے اور جن باتوں سے اللہ نے اسے روکا ہے ان سے وہ بچے، یہ معنی ہیں اللہ کی مدد کرنے کے اور یہی معنی جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں صبر کرنے کے ہیں۔یعنی صبر اور نصرت ایک مفہوم کے لحاظ سے قریباً ہم معنی ہیں تو اللہ تعالیٰ اگر چہ یہاں نصرت کا لفظ استعمال کرتا ہے لیکن اس معنی میں استعمال کرتا ہے جس معنی میں صبر کے لفظ کو بھی استعمال کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بالفاظ دیگر یہ فرمایا کہ ان تَنْصُرُوا اللہ اگر تم صبر سے کام لو گے ینصرکم تو وہ تمہاری مدد کو آئے گا اور اُس کی مدد کا ایک نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہیں نیکیوں پر دوام حاصل ہو جائے گا۔تمہیں مصائب کے برداشت کرنے کی اور دکھوں اور سازشوں اور دشمن کے مکر کے برداشت کرنے کی اور زبان کو قابو میں رکھنے کی دائمی قوت عطا ہو جائے گی ، ثبات قدم عطا ہوگا یعنی یہ نہیں کہ ایک سال تو نہیں طاقت ملی اور اگلے سال پھر تم جہنم میں چلے جاؤ بلکہ جب تم اللہ کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے تو تمہارا ثبات قدم تمہیں اس جنت سے پھر نکلنے نہیں دے گا کیونکہ وقت جو بھی تقاضا کرے گا تم اس کو پورا کرنے والے ہو گے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۵۱۳، ۵۱۴) قرآن کریم ہی نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگر تم ثبات قدم چاہتے ہو تو اس کا ایک طریق یہ ہے کہ :۔إِن تَنْصُرُوا اللهَ يَنْصُرُكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمُ یعنی اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوط کرے گا۔لَا يُولُونَ الْأَدْبَار میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ ہمارا اپنے رب سے عہد ہے کہ ہم خدا کی راہ میں ثبات قدم دکھا ئیں گے اور مختلف رنگ کے مختلف جہاد میں سے کسی میں بھی ہم منہ نہیں پھیریں گے اور پیٹھ نہیں دکھا ئیں گے۔