انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 297 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 297

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۹۷ سورة محمد اگر چہ ان آیات میں خاص طور پر جنگ کا ذکر ہے جو ظاہری سامانوں کے ساتھ لڑی جاتی ہے لیکن اس میں جو اصولی بات بیان ہوئی ہے وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں پیٹھ نہیں دکھانی۔اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہیں پھیر نا بلکہ ہر حال میں ان کو نباہتے چلے جانا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری ذہنیت ایسی ہونی چاہیے کہ تم ہر حالت میں اور ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے رہو گے۔اگر تمہارا یہ پختہ عزم ہوگا کہ تم خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے رہو گے اور کسی صورت میں بھی اس عہد کے خلاف کام نہیں کرو گے تو آسمان کے فرشتے نازل ہوں گے جو تمہارے قدموں میں ثبات پیدا کر دیں گے اور پھر تم خدا تعالیٰ کی مہربانی سے اپنے عہد پر پورا اُتر و گے۔دو پس يَنْصُرُكُم وَيُبْتُ أَقْدَامَكُمْ میں اس نصرت الہی کا وعدہ ہے جو خدا تعالیٰ کے فرشتے ثبات قدم پیدا کریں گے۔کیونکہ اس کے بغیر انسان کچھ نہیں کر سکتا۔اور اِنْ تَنْصُرُوا اللہ کے ظاہری طور پر صرف یہی معنے ہیں کہ مثلاً لوگ خدا کی راہ میں لڑنے کے لئے ہتھیار لے کر آگئے یا جہاد کے لئے پیسے دے دیئے بلکہ اللہ کے دین کی نصرت سے مراد وہ فدائیت ہے جو انسانی فطرت کا جزو بن جاتی ہے جو اس کی ذہنیت بن جاتی ہے جو انسان کی روح بن جاتی ہے۔انسان کی ایمانی روح ہی یہ ہے کہ خواہ کچھ ہو جائے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے رہنا ہے اور پھر دین کی یہ نصرت ہزار قسم کی ہو سکتی ہے۔کیونکہ ہزار قسم کے مطالبات ہیں جو ہزار قسم کے مختلف حالات میں کئے جاتے ہیں۔مثلاً مالی قربانیاں ہیں جان کی قربانیاں ہیں یعنی وقف زندگی کی شکل میں زندگی کی قربانی ہے۔پھر اشاعت قرآن کے لئے جدو جہد ہے جو آج کل بڑے زور سے شروع ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس میں کامیابی عطا فرمائے اور یہ دراصل جہادا کبر ہے۔کسی آدمی نے پتہ نہیں یہ کیسے کہہ دیا تھا کہ اسلام کی اشاعت کے لئے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں تلوار ہو، تب صحیح نتائج برآمد ہوتے ہیں لیکن ہمیں تو خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے اور یہی حقیقی الہبی آواز ہے جو ہمارے کانوں میں پڑی ہے اور جس کا ہم دُنیا میں اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے ایک ہاتھ میں قرآن ہے اور ہمارے دوسرے ہاتھ میں بھی قرآن ہے۔قرآن کریم نے ہمارے دونوں ہاتھوں کو مصروف رکھا ہوا ہے۔البتہ قرآن کریم جب یہ کہتا ہے تلوار پکڑ لوتو ہم تلوار پکڑ لیتے ہیں۔لیکن قرآن کریم ہی جب یہ کہتا ہے کہ مدافعانہ تلوارکا زمانہ گزر گیا اب ہم نے تلوار کا کام قلم