انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 292 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 292

۲۹۲ سورة الاحقاف تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث آج گندم کا دانہ جس میں مثلاً تعداد تو نہیں یاد کسی کو پتہ بھی نہیں ، گنا بھی نہیں جاسکتا ہے، لیکن مثال دے دیتے ہیں، جس کی پرورش میں ایک ہزارستاروں نے دودھ پلایا۔وہ اس دانہ سے مختلف ہے۔جو آج سے پانچ ہزار سال پہلے پیدا ہوا تھا اور جس کی پرورش میں صرف نوسوستاروں کی روشنی کا حصہ تھا۔عقلاً اس میں اختلاف ہونا چاہیے تھا کیونکہ زیادہ ستاروں کی روشنی پرورش کا باعث بنی تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ یہ جو میں نے ستارے بنائے ، پھر زمین بنائی اور پھر میں نے بے شمار چیزیں بنادیں مختلف انواع کے کچھ حیوان ہیں۔کچھ نباتات سے تعلق رکھنے والی ہیں۔کچھ معدنیات سے تعلق رکھنے والی ہیں وغیرہ وغیرہ اور پھر ہر چیز میں میری جس جس صفت کا جلوہ ہوا ہے چونکہ میری ہر صفت اور اس کے جلوے غیر محدود ہیں۔اس چیز کے جو خواص ہیں وہ غیر محدود ہیں۔تو اتنا بڑا کارخانہ اپنی وسعتوں کے لحاظ سے بھی اور اپنی گہرائیوں کے لحاظ سے بھی بے فائدہ اور بلا مقصد نہیں ہے، کوئی بات میرے سامنے تھی، کوئی مقصد میرے پیش نظر تھا جس کے لئے میں نے اس کارخانہ عالم کو بنایا۔خطابات ناصر جلد اول صفحه ۳۰۸،۳۰۷) آیت ۱۶ وَ وَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسَنًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرُهَا وَ وَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِضْلُهُ ثَلَثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَ بَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَى وَ عَلَى وَالِدَيَّ وَ أَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَ أَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تبتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے اور ان سے اپنے بعض بندوں کو فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائی اور خدا کے فعل نے معترضین کو ملزم قرار دیا اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ ہم ان کا مذاق اڑائیں۔وہ قرآن کریم کو استخفاف کی نظر سے دیکھنا چاہتے تھے مگر ہم نے دنیا پر یہ ثابت کر دکھایا کہ استخفاف کی نظر سے اگر کسی چیز کو دیکھا جاسکتا ہے تو وہ وہ نتائج ہیں جو اہل یورپ کے علوم، ان کی سائنس اور ان کی تحقیقات نکال رہی ہیں۔وہ آج ایک دوائی بناتے ہیں اور اس کی بڑی تعریف کرتے