انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 20 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 20

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ط أصَابَكَ اِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ) ۲۰ سورة لقمن وَاقْصِدُ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوتُ الْحَمِيرِ اسلام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بچے کو بچپن کی عمر میں ہی اسلامی تعلیم کی بنیادی باتیں سکھانا شروع کر دینا چاہیے جیسا کہ حضرت لقمان علیہ السلام کا بچے کو وعظ کے رنگ میں ان حقائق اور صداقتوں کی طرف متوجہ کرنا جو قرآن کریم کی صداقتیں اس زمانہ کے لوگوں کو دی گئی ہیں۔اس طرح حضرت مریم علیہ السلام کا واقعہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے اور اسی قسم کے دوسرے واقعات ہیں جن میں اسلام کی بنیادی تعلیم کو بیان کیا گیا ہے۔ان سب واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ بچے کو بچہ کہہ کر اس کی تعلیم اور تربیت سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔اس وقت ہمارے بہت سے بچے مختلف شہروں ، قصبوں اور دیہات سے یہاں جمع ہیں۔انہیں چاہیے کہ وہ بھی اس بنیادی تعلیم اور تربیت کے اصول پر غور کریں جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور اساتذہ کو خصوصاً چاہیے کہ وہ ان باتوں کا خیال رکھتے ہوئے ان بنیادی باتوں کی وضاحت کرتے رہیں اور کوشش کریں کہ ہمارے بچوں کے ذہن میں یہ بنیادی ہدایتیں واضح ہو جائیں تاکہ ان کی زندگی اندھیروں میں بھٹکتی نہ پھرے اور وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے ہمیشہ دور نہ رہیں۔سورۃ لقمان میں حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بچے کو جو نصیحت کی اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بچپن کے زمانہ سے ہی اسلامی تعلیم کی دس بنیادی باتیں بچوں کو بتاتے رہنا چاہیے اور ان کی تربیت اسی تعلیم کی روشنی میں کرنی چاہیے۔پہلی اور بنیادی چیز ( یعنی ان چیزوں میں سے بھی جو بنیادی ہے ) شرک سے اجتناب اور توحید پر قائم ہو جانا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ یہ بات بچے کے ذہن نشین کر دینی چاہیے کہ خدائے واحد و یگانہ کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی ذات میں اور نہ اس کی صفات میں۔وہی ایک واحد و یگانہ ہے جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا۔عالمین کو پیدا کیا یعنی اس مخلوق کو پیدا کیا جو موجود ہے اور جس تک ہمارا علم یا ہماری نظر یا ہمارا تخیل پہنچا ہے یا نہیں۔ان سب چیزوں کا پیدا کرنے والا ایک ہے۔کسی غیر کو اس کی ذات اور صفات میں شریک کرنا یہ ظلم عظیم ہے۔