انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 289
۲۸۹ سورة الجاثية خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۴۴۹،۴۴۸) تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث کے نفس میں طاقتیں تھیں نوع کے لحاظ سے جو مرد میں ہیں قرآن کریم کہہ رہا ہے جو مرد میں ، وہ عورت میں ہیں۔جو طاقتیں ساری کائنات کے مقابل انسان کو رکھ کے خدا تعالیٰ نے انسان میں پیدا کیں سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا کہ نوع انسانی کو تمام وہ قو تیں اور صلاحتیں دے دی گئیں جن کے نتیجہ میں وہ کائنات پر حکمرانی قائم کر سکتا ہے کیونکہ کا ئنات کی ہر چیز اس کی خادم بنا کے پیدا کی گئی ہے یہ جو قو تیں اور صلاحیتیں ہیں جس طرح مردوں کو دی گئیں قرآن کریم کہتا ہے عورتوں کو بھی دی گئیں۔جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اُس نے تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور جو فکر کرنے والی اور تدبر کرنے والی اور غور کرنے والی قوم ہے ان کے لئے اس میں ایک بڑا نشان ہے اور وہ معلوم کر سکتے ہیں کہ اس کا ئنات کی پیدائش اور انسان کی پیدائش کے پیچھے کوئی مقصد ہے۔اس لئے قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا تو مومنوں سے کہہ دے کہ تم اللہ تعالیٰ کی جزاء کی اُمید رکھو کیونکہ ایک مقصد کے پیش نظر تمہیں پیدا کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تم اپنی استعداد کے مطابق صفات باری کے مظہر بنو اور جو شخص اپنی استعداد کے مطابق صفات باری کا مظہر بن جاتا ہے وہ منبع مسرت اور خوشیوں کے سرچشمہ سے پرسکون اور خوشحال زندگی حاصل کرتا ہے جس پر کبھی فنا نہیں آتی ہے۔اس لئے تم اللہ کی سزا سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی گرفت کے یہ معنے ہوں گے کہ جو مقصد تم سے وابستہ کیا گیا تھا اس میں تم نا کام ہوئے اور جو خوشیاں تمہارے لئے مقدر کی گئی تھیں ان سے تم محروم ہوئے اور خدا تعالیٰ سے دوری کے نتیجہ میں جو عذاب مقدر کیا گیا تھا اس کے تم حق دار ٹھہرے۔خود ہی نہیں بلکہ جو سزا سے نہیں ڈرتے اور اپنے رب کو نہیں پہچانتے ان کو بھی معاف کریں اور ایسے سامان پیدا کریں کہ ان کی توجہ محبت اور پیار کے ساتھ ان کے رب کی طرف پھیری جاسکے اور خود سزا دینے کی طرف متوجہ نہ ہوں اور نہ خدا سے یہ کہیں کہ جلد انہیں سزا دے بلکہ کوشش یہ کریں کہ ایسے لوگ بلکہ ساری دنیا ہی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے۔من عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ آسَاءَ فَعَلَيْهَا الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو تم اچھی طرح سمجھا دو کہ ہمارا جو یہ مطالبہ ہے کہ ہماری ہدایت کے مطابق ہمارے ارشادات کی روشنی میں مناسب