انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 285
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۸۵ سورة الجاثية (خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۹۸ تا ۱۰۰) قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ : سَنَخَرَ لَكُم مَّا فِى السّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ که خدا تعالیٰ نے اس یو نیورس (universe) کی ، اس عالمین کی ، اس کائنات کی ہر چیز کو بہت سے خواص دے کر تمہاری خدمت کے لئے پیدا کیا ہے اور انہیں تمہارے خادم بنادیا ہے (خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۹۹) خدا تعالیٰ نے جو اس جہان کو پیدا کیا اس عالمین کو پیدا کیا اس کے مختلف پہلوؤں پر جب انسان نظر رکھتا ہے تو اس نتیجے پر پہنچتا ہے اور کہتا ہے علی وجہ البصیرت کہتا ہے کہ میرے رب نے کسی چیز کو بے مقصد نہیں پیدا کیا۔يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ - (ال عمران : ۱۹۲) کہ تو پاک ذات ہے تو نے کوئی چیز بے مقصد نہیں بنائی۔مومنوں پر الہی سلسلوں پر جو ابتلا آتے ہیں وہ بھی بے مقصد نہیں وہ ان کو مارنے کچلنے اور ہلاک کرنے کے لئے تو نہیں آیا کرتے ، وہ ان کی شان ظاہر کرنے کے لئے وہ ان کی روحانی ترقیات کے لئے، وہ خدا تعالیٰ کے پیار کے زیادہ حصول کے سامان پیدا کرنے کے لئے آیا کرتے ہیں۔وہ بے مقصد نہیں ہیں ان کا مقصد ہے اور بڑا عظیم مقصد ہے۔بڑا حسین مقصد ہے۔بڑا پیارا مقصد ہے۔مومن یہ سوچے گا کہ ایٹم کی طاقت بے مقصد نہیں ہے اور خدا تعالیٰ نے مقصد اصولی طور پر قرآن کریم میں یہ بتایا ہے کہ وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ کہ بلا استثناہر چیز کو انسان کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ایٹم کی طاقت کا بھی یہی مقصد ہے لیکن جنہوں نے ایٹم کی طاقت کو نکالا وہ اس کا استعمال کچھ حد تک صحیح بھی کر رہے ہیں اور بہت حد تک غلط بھی کر رہے ہیں یا کر سکتے ہیں۔ایسے مہلک ہتھیار بنالئے ہیں۔ایک مومن کا دماغ کہے گا کہ ایٹم کا یہ مقصد تو نہیں کہ جو چیز انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے وہ اس کی گردن اڑا دے وہ تو انسان کے فائدے کے لئے ہی استعمال ہونی چاہیے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۶۰) انسانوں کی دو جماعتیں یا دو گروہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ذکر کیا ہے۔ایک وہ گروہ ہے جن کو متاع زندگی اور زینت حیات خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی اور انہوں نے یہ سمجھا کہ گویا وہ اس کے حقدار تھے، اس دنیا میں مزے لوٹنے کے لئے انہیں یہ چیزیں عطا کی گئی ہیں اور مزہ لوٹنا