انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 279
تفسیر حضرت خلیفہ مسیح الثالث ۲۷۹ سورة الدخان نگاہوں والی ،شرم و حیا سے معمور، پاکباز۔یہ آیات قرآنی میں ہے اس کا ترجمہ میں بتارہاہوں گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔یا قوت اور مرجان تمثیلی زبان میں مثال دی ہے کہ عورت یاقوت اور مرجان کی طرح ہے۔یاقوت سرخی کی طرف اشارہ اور مرجان ایک ایسی سفیدی جس میں سرخی بھی جھلک رہی ہے یعنی ان کی خوبصورتی، سفیدی میں سرخی جھلک رہی ہے۔ان کی خوبصورتی سفیدی اطمینان ) سرخی (جوش) اطمینان میں آگے بڑھنے کی خواہش جھلک رہی ہے۔اب حُورٌ مَّقْصُورَت فِی الْخِيَامِ میں کوئی ضرورت نہیں تھی زوجنا کے دہرانے کی یہ ترتیب وار جو آگے پیچھے آئی ہیں سورتیں ، پہلی دوسورتوں میں اعلان ہو چکا ہے کہ وہ زوج ہے جنتی کی۔اب یہاں یہ کہا کہ جس کو ہم نے زوج کہا حور عین ہی نہیں بلکہ وہ نیچی نگاہوں والی اور پاکباز عورتیں ہیں۔گناہ بخشے جائیں گے تبھی تو وہ جنت میں پہنچیں گی۔دو چوتھی آیت سورۃ واقعہ میں ہے جو ۵۶ ویں سورۃ ہے۔میں ایک دفعہ یہاں دو ہرا دوں سورتوں کے نمبر پہلی سورۃ اس ترتیب میں قرآن کریم کی ۴۴ ویں، دوسری ۵۲ ویں، تیسری ۵۵ ویں، چوتھی ۵۶ دیں۔ان چار سورتوں میں حور کا لفظ آیا ہے۔پہلی دو سورتوں میں یہ اعلان کیا کہ وہ جنت کی زوج ہیں۔پھر اگلی دو ہیں ان میں اس اعلان کی ضرورت نہیں بلکہ اس حور کی جس کو زوج کہا گیا صفات بیان کی گئیں اور سورۃ رحمان میں کہا کہ شرم و حیا والی ہیں۔نیچی نگاہوں والی ہیں۔اس واسطے کھلے باغات نہیں بلکہ ان کے لئے خیموں کا بھی انتظام کیا گیا ہے اور حفاظت کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔سورۃ واقعہ میں ہے وَحُورٌ عِيْن كَامْثَالِ اللُّؤْلُو الْمَكْنُونِ (الواقعة: ۲۳، ۲۴) کالی پتلیوں والی ، بڑی بڑی آنکھوں والی، جو محفوظ موتیوں کی طرح ہوں گی۔نیک اور پاکباز، یہ ان کی صفات ہو گئیں۔اور بھی کچھ صفات ہیں ان ازواج کی جو میں نے نہیں لیں۔اب اگر کوئی شخص حور کے معنی یہ کر لے کہ وہ زوج نہیں اس دو دفعہ کے اعلان کے بعد کہ زَوَجُنُهُمْ بِحُورٍ عِینِ تو وہ درست نہیں ہوگا۔اس واسطے محض قرآن کریم کا ترجمہ غیروں میں، غیر مسلموں میں پہنچانا کافی نہیں جب تک یہ ساری احتیاطیں نہ برتی جائیں کہ کوئی ایسا ترجمہ یا تفسیر نہ ہو دوسری آیات نہ کر رہی ہوں جس کی توثیق بلکہ قرآن کریم خود اپنا مفسر ہے۔قرآن کریم کو نازل کرنے والے اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ جتنا مرضی غور کر لو اس کا ئنات میں تمہیں میری صفات