انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 277
۲۷۷ سورة الدخان تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث کی صفات بہت جگہ بیان ہوئی ہیں کچھ میں آگے بھی بیان کروں گا۔وَ زَوِّجُنُهُم بِحُورٍ عِيْنِ ہم ان کو ازدواجی رشتہ میں باندھیں گے ایسی جوان عورت کے ساتھ جو ” حور ہوگی روحانی آنکھ رکھنے والی ہوگی اور خوبصورت اس کی آنکھیں ہوں گی اور یہ نتیجہ اس سے بھی نکلتا ہے کہ اگلی آیت میں ہے کہ ان کے ساتھ جنتوں میں ان کی اولاد کو بھی جمع کریں گے یعنی جنت میں جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کی اولا د نیک عمل کرنے والی ہے لیکن اس مقام کو پہنچنے والی نہیں جہاں باپ پہنچا (ویسے بعض دوسرے سوال دماغ میں آجائیں گے جن کو قرآن نے حل کیا ہے اس وقت ان کا ذکر نہیں کروں گا ورنہ دیر ہو جائے گی ) ان کے ساتھ جنت میں میں ان کی اولاد کو بھی جمع کروں گا۔اس میں بیوی کا ذکر کیوں چھوڑ دیا اس واسطے کہ زَوَجُنُهُم بِحُورٍ عِيْنِ پہلی آیت میں آچکا تھا۔نو جوان ، خوبصورت ، خوبصورت آنکھوں والی، ہر وہ چیز دیکھنے والی جس کا دیکھنا ایک جنتی کے لئے اپنی ارتقا اور اپنی خوشی کے لئے ضروری ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نیک صالح عورتیں فوت ہوتی ہیں ان میں سے بہت سی بہت بوڑھی ہوتی ہیں ان سے چلا بھی نہیں جاتا۔بڑھاپے کا شکار، بہت سی ایسی ہوتی ہیں جو خوبصورت نہیں ہوتیں۔کچھ بدصورت بھی ہوتی ہیں جانے والی لیکن جنت میں جا کے ساری خوبصورت بن جائیں گی جیسا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑھیا مومنہ سے کہا کہ جنت میں کوئی بوڑھی نہیں جائے گی۔تو اس نے رونا شروع کر دیا کہ یارسول اللہ میں کہاں مروں کھوں گی؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ تم نہیں جاؤ گی۔میں نے یہ کہا کہ جنت میں کوئی بوڑھی نہیں جائے گی۔تم جوان ہونے کی حیثیت میں وہاں جاؤ گی تو جب بوڑھی وہاں جوان ہونے کی حیثیت میں جائے گی تو بدصورت وہاں خوبصورت حیثیت میں جائے گی۔جوانگڑی لولی یہاں سے گئی ہے وہاں صحت مند اعضا، بھر پور نشو و نما کے ساتھ اس دنیا کے لحاظ سے جس کی تفصیل کا ہمیں پتا نہیں اس لحاظ سے جائے گی تو زَوَجُنُهُم بِحُورٍ عِيْنِ کہ ان کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں باندھا جائے گا بڑھیا سے نہیں جس حالت میں اس نے اس دنیا میں چھوڑی اپنی بیوی بلکہ حور مین کے ساتھ جو جوان بھی ہو گی ، خوبصورت بھی ہوگی، نیک بھی ہوگی۔بہت تفصیلات قرآن کریم نے بیان کی ہیں۔بہر حال یہاں حور" کا لفظ آیا ہے اور حور“ کا لفظ زوج کی حیثیت سے آیا۔" وو