انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 276
تگیر حضرت خلیفہ مسیح الثالث آیت ۵۲ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ آمِين سورة الدخان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ” تقویٰ ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے“۔(ایام اصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۴۲) تقویٰ ایک ایسا قلعہ ہے کہ جب اس کے اندر نیک اقوال اور صالح اعمال داخل ہو جا ئیں تو وہ شیطان کے ہر حملہ سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر کوئی عمل بظاہر کتنا ہی پاکیزہ اور صالح کیوں نظر نہ آتا ہو اگر وہ اس قلعہ میں داخل نہیں تو شیطان کی زد میں ہے، کسی وقت وہ اس پر کامیاب حملہ کر سکتا ہے کیونکہ اگر تقویٰ نہیں تو کبر پیدا ہوسکتا ہے، ریاء پیدا ہوسکتا ہے، عجب پیدا ہو سکتا ہے اگر تقویٰ ہے تو ان میں سے کوئی بدی پیدا نہیں ہو سکتی یعنی شیطان کا میاب وار نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن کریم میں یہ مضمون بیان فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ابھی جو فقرہ میں نے پڑھا ہے وہ معنوی لحاظ سے اس کا ترجمہ ہے۔اللہ تعالیٰ سورہ دخان :۵۲ میں فرماتا ہے اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامِ آمِین کہ متقی یقینا ایک امن والے اور محفوظ مقام میں ہیں تو یہی وہ حصن حصین ہے۔یہی ”آمین“ کے معنی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے ہیں کہ محفوظ اور امن میں وہی ہے جو تقویٰ پر مضبوطی سے قائم ہوتا ہے جو تقویٰ پر قائم نہیں وہ امن میں نہیں وہ خطرہ میں ہے وہ حفاظت میں نہیں خوف کی حالت میں ہے اور ایسا شخص مقام امین میں نہیں ہے بلکہ اس مقام پر ہے جسے دوسرے لفظوں میں جہنم کہا جاتا ہے۔پس قرآن کریم نے ہی تقویٰ کے معنوں کو بیان کرتے ہوئے معنوی لحاظ سے حصن حصین کا تخیل پیش کیا ہے کہ سوائے تقویٰ کی راہوں پر چل کر کوئی شخص امن میں نہیں رہ سکتا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے اس مضبوط قلعہ میں داخلہ ہونے کا سوائے تقویٰ کے دروازے کے۔آیت ۵۵ كَذلِكَ وَزَوَّجُنُهُمْ بِحُورٍ عِيْنٍ ) (خطبات ناصر جلد دوم صفحہ ۶۷) (۵۵) وَزَوَّجُنُهُمْ بِحُورٍ عِيْنِ پہلے تو میں نے بتایا نا تمہید بتائی تھی کہ یہ جنت ہے یہ اس کا نقشہ ہے اور ہم ان کی ازواج کو حور بنا دیں گے۔حور کو اللہ تعالیٰ ان سے ازدواجی رشتہ سے باندھ دے گا۔حور