انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 275

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۲۷۵ سورة الدخان بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الدخان آیت ۵۰ دققُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ۔اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تمہیں حقیقی عزت ملے تو وہ اس بات کو سمجھتا نہیں۔اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالإِثْم (البقرة : ۲۰۷) اپنی جھوٹی عزت کی بیچ ایسے لوگوں کو گناہ پر آمادہ کر دیتی ہے اور گناہ پر قائم رکھتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے شخص کی کوئی عزت نہیں۔کیا وہ صاحب عزت ہو سکتا ہے جس کے لئے جہنم خدا نے تیار کیا ہو؟ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ جس کے لئے جہنم کافی ہے۔جس نے جہنم میں پڑنا ہے وہ عزت اور فخر سے اپنا سر کیسے اونچا کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے سورہ دخان میں کہ دنیوی غلبہ اور دنیا کی مقبولیت پر گھمنڈ کرنے والے اور ا اپنی جھوٹی دنیوی عزت پر فخر کرنے والے کو ہمارے حکم سے فرشتے جہنم کے وسط تک گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے اور ان کے سروں پر ان کی اصلاح کے لئے گرم پانی ڈالا جائے گا اور ہم اسے کہیں گے ذُقُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الكَرِيمِ میرے غضب اور میری طرف سے نازل ہونے والی بے عزتی کو چکھ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الگریم تو دنیا میں اپنے آپ کو غالب اور عزت والا اور قابل احترام سمجھا کرتا تھا اور عزت کے حصول کے لئے صحیح راہوں کو اختیار کرنے کی بجائے تو نے غلط راہوں کو اختیار کیا تھا۔إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الكَرِیم آج میرے غضب کی جہنم اور ذلت کی جہنم کو چکھ اور یہ بدلہ ہے اس جھوٹی عزت کا جو دنیا میں تو نے اپنے لئے قائم کی تھی۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۲)