انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 272 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 272

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۲۷۲ سورة الزخرف طرح آپ رحمن خدا کی پرستش کرنے والے اور اپنی ساری توجہ اور سارے اعمال کو اس کی طرف پھیرنے والے تھے۔پھر آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں امت محمدیہ میں کروڑوں خدا کے بندے پیدا ہوئے جنہوں نے خدائے رحمن کو پہچانا اور اس کی عظمت رحمانیت کے نتیجہ میں اپنی بے کسی کا احساس ان کے دلوں میں پیدا ہوا اور انہوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔ہم اسی وقت کچھ بنتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ جو بغیر عمل اور استحقاق کے اپنی رحمت سے نواز نے والا ہے اپنی رحمت سے نواز دے۔اس لحاظ سے ہمارے زندہ رہنے والے بزرگ بھی اور ہمارے جانے والے بھائی بھی اور بہنیں بھی اور بزرگ مائیں اور پھوپھیاں بھی ( جو بھی جسمانی اور روحانی رشتے ہم ان سے رکھتے ہیں ) ہمارے لئے نمونہ بنتے ہیں وہ ہمارے لئے پرستش کی جگہ نہیں بنتے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۱۰۶، ۱۰۷) آیت ۴۵ وَ اِنَّه لَذِكْرُ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْتَلُونَ قرآن کریم نے متعدد جگہ پر اس بات کا اظہار کیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ زخرف میں فرماتا ہے وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُستَلُونَ اس آیت میں امت محمدیہ کی ذمہ واری کی طرف بڑے زور سے توجہ دلائی گئی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد ! یہ کلام جو تیرے اوپر اتارا جا رہا ہے وہ تیرے لئے بھی شرف اور عزت کا موجب ہے اور تیری قوم کے لئے بھی وَسَوْفَ تُلُونَ اور اے امت محمدیہ! تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اس ہدایت اور تعلیم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالا ہے یا نہیں۔وَمَا هُوَ الا ذكر لِلعَلَمِينَ (القلم : ۵۳) یہ دراصل وَلِقَوْمِكَ کے متعلق ہے کیونکہ کوئی معاند اور مخالف کہ سکتا تھا کہ اس کے مخاطب صرف عرب ہیں کیونکہ وہ آپ کی قوم ہیں اس لئے دوسری جگہ فرمایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم عرب نہیں بلکہ عالمین میں بسنے والے با اختیار اور بالا رادہ کام کرنے والی مخلوق ہے اس لئے فرمایا وَمَا هُوَ إِلَّا ذكر للعلمین قرآن کریم ساری دُنیا کے لئے شرف لے کر آیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو جھنجھوڑنے کے لئے انہیں مخاطب کر کے کہتا ہے بَلْ آتَيْنَهُم