انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 271
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۲۷۱ سورة الزخرف بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الزخرف آیت ۳۸،۳۷ وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكرِ الرَّحْمَنِ نُقَيْضُ لَهُ شَيْطنًا فَهُوَ له قَرِين وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مهتَدُونَ جو دو آیات میں نے ابھی پڑھی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص رحمن کے ذکر سے منہ موڑ لے اس پر ہم شیطان مستولی کرتے ہیں اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے اور ہدایت اور صداقت اور سچائی کی راہوں سے اسے روکتا ہے لیکن وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہے۔بات یہ ہے کہ جہاں تک ہدایت یافتہ ہونے یا نجات یافتہ ہونے کا تعلق ہے یہ صفت رحیمیت کے طفیل نہیں بلکہ صفت رحمانیت کا اس سے واسطہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی بزرگ ہستی سے بھی جب سوال کیا گیا تو آپ نے بھی یہی فرمایا کہ اپنے عمل سے نہیں بلکہ خدا کی رحمت سے اور اس کے فضل سے میں اس کی جنتوں میں داخل ہوں گا۔رحیمیت کا تعلق ہمارے اعمال سے ہے اور رحمانیت کا تعلق اس واقع سے ہے کہ ہم خواہ کتنی ہی بڑی چیز خدا کے حضور پیش کر دیں خدا تعالیٰ جو خالق گل اور مالک کل اور غنی ہے اس کو تو اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔اگر وہ چاہے تو اپنی رحمانیت سے اسے قبول کر لے اور اگر چاہے تو اپنی رحمانیت کا جلوہ نہ دکھائے اور اسے رڈ کر دے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو سارے جہان کے لئے اور قیامت تک کے لئے ایک نمونہ ہیں کہ کس