انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 266 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 266

تفسیر حضرت خلیفۃ السیح الثالث ۲۶۶ سورة الشورى ابدی کے ساتھ بھی ہے۔ایمان کے لفظ میں یہ اشارہ کیا کہ آسمان سے ہدایت نازل ہوگی تبھی تو اس پر ایمان لانا ہے۔انسانی تاریخ میں ہمیں ایمان ایمان میں فرق نظر آتا ہے۔پہلے انبیاء پر جو شریعتیں نازل ہوئیں ان پر ایمان لا کر اس وقت کے مَتَاعُ الحیوۃ الدنیا کو روحانی، اخلاقی اور انگلی زندگی کے سامانوں میں تبدیل کرنے کے لئے مواد تھا لیکن وہ اس پائے کا نہیں تھا۔پھر انسانی ذہن آہستہ آہستہ ارتقائی مدارج طے کر کے آخر میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ تک پہنچ کر کامل شریعت کا حامل ہوا اور ایک کامل اور مکمل شریعت کو اس وقت کے انسان نے اور بعد میں آنے والی نسلوں نے حاصل کیا اور پھر اتمام نعمت ہو گیا۔اس سے قبل پہلے انبیاء کے ذریعہ سے نعمت تو ملی تھی مگر اتمام نعمت نہیں تھا۔اتمام نعمت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔آپ کی لائی ہوئی شریعت نے فَما اوتيتم منْ شَيْءٍ کے مطابق جو کچھ بھی انسان کو ملا تھا جو کہ محض مَتَاعُ الحیوۃ اللہ نیا تھا اس کی ہر چیز اور ہر شے کے ہر پہلو کو بدل کر اسے اخروی زندگی کے سامان میں تبدیل کر دیا۔پھر ایک سچے اور حقیقی مسلمان کے لئے وہ محض مَتَاعُ الْحَيوةِ الدُّنْیا نہیں رہا بلکہ ابدی زندگی کا ہمیشہ رہنے والی زندگی کا سامان ان کے لئے پیدا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انسان کو آسمانی شریعت ملی، جب آسمان سے ہدایت نازل ہوئی تو اس نے تقاضا کیا کہ اس پر ایمان لاؤ اور جیسا کہ جب وقت ہوتا ہے، موقع آتا ہے اور ایمان کے متعلق بات ہوتی ہے تو ہم ہمیشہ ہی بتاتے ہیں کہ ایمان کے تین پہلو ہیں۔عقیدہ کے لحاظ سے ایمان،صدق دل کے لحاظ سے ایمان اور عمل کے لحاظ سے ایمان یعنی عقل اور دل بھی مانتا ہو کہ یہ بات سچی ہے اور عقیدہ بھی اس کے مطابق ہو اور عمل بھی اس کے مطابق ہو۔جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف نوع انسانی کی طرف مبعوث ہوئے تو کامل شریعت آ گئی ، اس کامل شریعت نے ہر اس چیز کو جس کے متعلق آیت کے شروع میں کہا گیا تھا کہ وہ مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا یعنی محض ورلی زندگی کے سامان ہیں اسے بدل کر اُخروی زندگی کے سامان بنادیا۔انسان شمار نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ نے اس کو کتنی طاقتیں دیں اور کن کن رنگوں میں اس نے ان کو استعمال کرنا ہے لیکن اگر انسان خدا تعالیٰ کی ہدایت کے نور میں اپنے آپ کو لپیٹ لے تو ہمارا کھانا ، ہمارا پینا، ہمارا پہننا، ہمارا رہنا سہنا ، ہماری ہر حرکت اور ہمارا ہر سکون غرضیکہ ہر قوت اور استعداد کا ہر پہلو اُخروی زندگی کا سامان بن جاتا ہے۔پھر وہ