انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 263
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۲۶۳ سورة الشورى کھانے والے، دوسروں کا استحصال کر کے کھانے والے اور اپنی صحت کو پوری طرح نشو و نما دینے والے تھے وہ عملی زندگی میں عیاش بن گئے تھے اور انہوں نے عیاشانہ راہوں کو اختیار کر لیا تھا اور جن کے پاس ور لی زندگی کے وہ سامان نہیں تھے یا اس قسم کے نہیں تھے یا تو ان کی عیاشی میں فرق تھا یا وہ اس طرف بالکل توجہ نہیں کر سکتے تھے۔ایک مردہ گھوڑا عیش کے احاطوں میں کہاں چھلانگیں لگا سکتا ہے لیکن جب آسمانی ہدایت بیچ میں شامل ہو گئی اور خدا تعالیٰ نے کہا کہ یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا۔اگر یہ کرو گے تو میرا غضب تم پر نازل ہوگا اور میرا غضب تم برداشت نہیں کر سکتے اس واسطے میرے غضب سے بچنے کے لئے تمہیں میری ہدایت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور جب انسان نے اس پر عمل کیا تو وہی بے برکت زندگی جس کا انحصار صرف اچھے کھانے پینے اور رہنے سہنے پر تھاوہ بڑی حسین زندگی، وہ بڑی محسن زندگی ، وہ بڑی پیاری زندگی اور دوسروں کے لئے بڑی خادم زندگی بن گئی۔پھر انسان کو جو ذہنی استعداد میں عطا ہوئی ہیں وہ بھی فما أُوتِيتُم مِّنْ شَيْءٍ میں شامل ہیں وہ بھی ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہیں لیکن اگر آسمانی ہدایت شامل حال نہ ہو تو یہ ذہنی استعدادیں بھی محض ورلی زندگی کا سامان ہی ہیں یا ان سامانوں کو پیدا کرنے والی ہیں۔انسان کی عقل نے جب وہ خدا کی وحی اور اس کے الہام کی روشنی سے کوری تھی باوجود ایٹم کی طاقت کو پالینے کے اور اس کو دریافت کر لینے کے اس کے غلط استعمال سے انسانوں کی تباہی کے سامان پیدا کر دیئے۔پس جہاں تک ذہانت کا سوال تھا ذہانت دی گئی لیکن جہاں تک آسمانی برکات سے محرومی کا نتیجہ تھا اس ذہانت سے اس ورلی زندگی کے ہی سامان پیدا ہوئے۔ایک دوسرے کو قتل و غارت کرنے کے بعد اپنی سلطنتوں کو مضبوط بنانے کے سامان پیدا ہوئے جن کا تعلق محض اس ورلی زندگی کے ساتھ تھا اور آسمانی برکتوں سے محرومی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے پیار سے محرومی ظاہر ہونے لگی۔پھر انسان کو اخلاقی طاقتیں دی گئی ہیں۔بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوئے جنہوں نے اخلاق پر کتا ہیں لکھیں لیکن وہ بالکل پھپھی سی کتابیں ہیں۔میں آکسفورڈ میں اخلاقیات کا مضمون بھی پڑھتا رہا ہوں چنانچہ وہ کتب جو آکسفورڈ اور کیمبرج اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں یا اب روس کی یونیورسٹیوں میں اساتذہ بڑے فخر سے پڑھاتے ہیں وہ لوگ جو دینی علوم سے واقف ہیں جب وہ ان کتب کو پڑھتے ہیں جن پر کہ مغرب فخر کرتا ہے تو وہ ہمیں بدمزہ ہی، پھپھی سی اور لایعنی سی کتابیں