انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 257
تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث یہ ۲۵۷ سورة الشورى اس غرض کو پورا کرنے والا ہے یہ شخص اپنی زندگی اور اعمال صالحہ کے نتیجہ میں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بڑی عظیم تعلیم ہے یہ۔عدل پر قائم رہو۔عدل و انصاف کی بات کرو۔حق وانصاف کا کام کرو لیکن شیطان تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہے شیطان تمہیں صراط مستقیم سے ہٹانے کی کوشش کرے گا۔کس راستے سے وہ آئے گا، وہ ہم بتا دیتے ہیں وہ دروازہ بند کر دو شیطان کے لئے شیطان تمہارے پاس نہیں آئے گا۔فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى اَنْ تَعْدِلُوا ( النساء :۱۳۶) خواہشاتِ نفسانی کی پیروی نہ کرو ورنہ تم عدل پر قائم نہیں رہ سکو گے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے پیار کو حاصل کرنے کے لئے عدل پر قائم رہنا ضروری ہے اور عدل پر قائم رہنے کے لئے ضروری ہے کہ شیطان تمہارے دل اور دماغ اور روح میں کوئی فتنہ اور شیطانی وساوس پیدا نہ کرے، اور یہ فتنہ شیطان پیدا کرتا ہے ہوا و ہوس اور خواہشات نفسانی کے ذریعہ سے۔تو ہم تمہیں کہتے ہیں شیطان خواہشات نفسانی پیدا کرے گا کیونکہ ہم نے اس کو اجازت دی ہے۔اس کو کہا بے شک کر تمہیں کہتے ہیں اس کی بات نہ مانولا تَتَّبِعُوا الْهَوَى۔تم اگر خواہشاتِ نفسانی کی پیروی نہیں کرو گے تو عدل کے مقام سے کبھی نہیں گرو گے اور اگر عدل کے مقام سے تم نہیں گرو گے تو میرے پیار کو تم حاصل کرو گے۔تم صراط مستقیم پر ہو گے جس کا پچھلی آیت میں ذکر ہے جو سیدھی میری رضا کی جنتوں کی طرف لے جانے والی ہے۔ان آیات سے ( کچھ تو میں نے ان کے ترجمے کے وقت بتادی ہیں اس کو دہرا دیتا ہوں ) جن باتوں کا پتا لگتا ہے وہ یہ ہیں کہ تمام انسانوں کے درمیان عدل کرنے کا حکم ہے تمام انسانوں کے درمیان۔دوسرے یہ کہ دشمنی عدل کے خلاف آمادہ نہ کرے۔اس زمانہ میں بدقسمتی سے آپس میں الف بيْنَ قُلُوبِكُمْ کے باوجود فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِه اِخْوَانًا کے باوجود مسلمان مسلمان بھی لڑ پڑتے ہیں لیکن جو اس کے حقیقی مصداق تھے وہ تو ایسا نہیں کرتے تھے۔غیر مسلم کی دشمنیوں کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ ان کی دشمنیاں بھی ، اے میری بات مانے والو تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کریں کہ عدل کی جو تعلیم تمہیں دی گئی ہے تم اسے چھوڑ کے خیانت اور بے انصافی کی راہوں کو اختیار کرو۔ہمارا حکم یہی ہے کہ دشمن سے بھی عدل وانصاف کیا جائے۔تیسری بات یہ بتائی گئی کہ عدل تقویٰ کے سب سے قریب ہے۔اَقْرَبُ لِلتَّقْوای یعنی اگر تم میری