انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 256 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 256

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۵۶ سورة الشورى ڈھونڈتے رہو اور کوئی دشمنی تمہیں کسی ایسے کام کے کرنے پر مجبور نہ کرے کہ جس کے نتیجہ میں تم خدا تعالیٰ کی پناہ سے باہر نکل جاؤ اور خدا تعالیٰ کے دربار سے دھتکارے جاؤ۔وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبى (الانعام : ۱۵۳) جب کوئی بات کہو تو خواہ وہ شخص جس کے متعلق بات کی گئی ہے تمہارا قریبی ہی ہو ( یعنی تعصب اس کے حق میں بھی آسکتا ہے ) تعصب نہ آنے دو۔عدل وانصاف سے کام لے کے بات کرو اور اگر ایسا کرو گے وَ بِعَهْدِ اللهِ أَوْفُوا (الانعام : ۱۵۳) تو خدا نے جو عہد لیا ہے تم سے جو فرائض تم پر عائد کئے ہیں تم ان کو پورا کرنے والے ہو گے۔اگر ایسا نہیں کرو گے، اگر اپنوں کے لئے حق و انصاف کی بات کو چھوڑ دو گے تو خدا تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض کو توڑنے والے ہو گے اس عہد کو نباہنے والے نہیں ہو گے خیانت کرنے والے ہو جاؤ گے۔پھر اللہ تعالیٰ سورۃ محل میں فرماتا ہے۔(جو آیت میں نے لی وہ تو دوسرے مضمون کا حصہ ہے)۔هَلُ يَسْتَوَى هُوا وَ مَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (النحل: ۷۷) مفہوم میں نے پہلی آیتوں کا لیا ہے تاکہ اگلا مفہوم واضح ہو جائے۔اللہ تعالیٰ دو شخصوں کی حالت بیان کرتا ہے جن میں سے ایک تو گونگا ہے جو کسی بات کی طاقت نہیں رکھتا۔میں کہا کرتا ہوں کہ ہمارے ملک میں شرافت گونگی ہے۔آواز نہیں نکلتی شرافت کے حق میں۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دو شخصوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ۔جن میں سے ایک تو گونگا ہے جو کسی بات کی طاقت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بے فائدہ بوجھ ہے۔جدھر بھی اس کا آقا اسے بھیجے ، جو ذمہ داری بھی اس کے سپر د کی جائے۔وہ کوئی بھلائی کما کر نہیں لاتا ، نا کام ہوتا ہے اپنے مشن میں ، اپنے کام میں۔ایک تو وہ شخص ہے کیا وہ شخص جس کا اوپر ذکر ہے جو گونگا ہے اور خیر کی طاقت نہیں رکھتا اور نا کام ہوتا ہے وہ شخص اور وہ دوسرا شخص جو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھی راہ پر قائم ہے باہم برابر ہو سکتے ہیں؟ یہاں موازنہ کیا گیا ہے اس شخص کا جو خود بھی عدل کرتا ہے علی صراط مستقیم پر قائم ہے اور اپنے ماحول میں بھی عدل کی تعلیم کو قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ وہ شخص ہے۔جہاں نفی ہوئی پہلی چیزوں کی۔اس شخص کے حق میں نفی مثبت میں بدل جائے گی۔یہ وہ شخص ہے کہ جدھر بھی اس کا آقا اسے بھیجے وہ اپنی ذمہ داری کو را کرتا اور بھلائی کما کر لاتا ہے اور یہ وہ شخص ہے جو گونگا نہیں جو کسی بات کی طاقت نہ رکھتا ہو اور یہ وہ شخص ہے جو اپنے مالک پر بے فائدہ بوجھ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا