انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 255 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 255

تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۲۵۵ سورة الشورى دوسری قسم کا عدل ہے۔وَ كَفُ الْآذِيَّةِ عَمَّن كَفَ أَذَاهُ عَنْك (المفردات في غريب القرآن زیر لفظ عدل) اور جو تمہیں دکھ نہیں پہنچا تا تم بھی اسے دکھ نہ پہنچاؤ۔اور وہ کہتے ہیں کہ ایک عدل ایسا ہے جس میں شرع نے مناسب حال ( اعمال صالحہ کہتے ہیں اسے ) کام کرو۔اس میں اس کی شکل بدلتی ہے مثلاً وَ جَزْهُ سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری : ۴۱) اب جتنا کوئی کسی کو دکھ پہنچائے یا کسی کو نقصان پہنچائے اسی قدر اس کو سزا دینا، یہ حکم ہے، یہ عدل ہے لیکن یہاں قرآن کریم نے ساتھ ہی کہہ دیا۔فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ تو اس میں عدل سے زیادہ مہربانی کرنے کا ایک راستہ کھول دیا۔عدل سے کم کا راستہ کوئی نہیں کھولا قرآن کریم نے لیکن عدل سے اوپر اٹھا کے کہا۔احسان کرو تو عدل کے معنی ہیں هُوَ الْمُسَاوَاهُ فِي الْمُعَافَاهِ (المفردات فی غریب القرآن زیر لفظ عدل) کسی کے عمل کے مطابق بدلہ دینا۔وہ عمل اچھا ہو، اچھا بدلہ، براہو، برا بدلہ لیکن اسی کے مطابق۔تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری وہ ساری تعلیم جو میں تمہاری طرف لے کے آیا ہوں وہ اس لئے ہے کہ تمہارے درمیان عدل قائم کیا جائے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے بَيْنَكُم کی ضمیر بنی نوع انسان کی طرف پھرتی ہے۔سورہ مائدہ میں فرمایا :۔وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَلَا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدة: 9) یہ جو ہے 66 کسی قوم کی دشمنی اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں جو حکم ہے وہ یہی ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کی تفریق کئے بغیر تم نے عدل کو قائم کرنا ہے کیونکہ مسلمانوں کے متعلق تو یہ فرمایا۔فَالفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا (ال عمران : ۱۰۴) تو مسلمان کی تو آپس کی دشمنی کو قرآن کریم تسلیم ہی نہیں کرتا کہ ایک مسلمان، مسلمان ہوتے ہوئے دوسرے مسلمان سے دشمنی رکھے۔یہاں ذکر ہے دشمنی کا۔معلوم ہوا یہاں غیر مسلم کے متعلق بات ہے۔کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو۔تم عدل و انصاف سے کام لو۔اِخْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقوى عدل وانصاف تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔تقویٰ کے معنے ہیں خدا تعالیٰ کی حفاظت میں آجانا۔تو فرمایا کہ عدل اور انصاف کی راہ کو اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے تم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ گے جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر تم اسلام کے دشمن سے بھی عدل اور انصاف سے کام نہیں لو گے تو تم خدا تعالیٰ کی پناہ سے نکل جاؤ گے۔اس لئے تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو یعنی اس کی پناہ ہی ہمیشہ