انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 250
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۲۵۰ سورة حم السجدة وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا تو جب تک عمل صالح ساتھ نہ ہو اس وقت تک تمہاری باتیں دنیا کے دلوں کو جیتیں گی نہیں اور فتح نہیں کریں گی اور ان دلوں کو جیت کر اور ان دلوں کو فتح کر کے تم اس قابل نہیں ہو گے کہ تم انہیں اپنے رب کے قدموں پر لا ڈالو۔اس لئے جب تم حق کی اشاعت کے لئے اپنے گھروں سے یا اپنے شہر سے اپنے قفس سے جو نفس کی خواہشات کا ایک پنجرہ ہوتا ہے اس سے باہر نکلو تو اس وقت عملی نمونہ اپنے ساتھ لے کے جانا ورنہ تمہاری باتیں جو ہیں وہ ایک کان میں داخل ہوں گی اور دوسرے کان سے باہر نکل جائیں گی۔(۱۰) پھر دسویں بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ عمل جو بظا ہر عمل صالح نظر آتا ہے ضروری نہیں کہ وہ خدا کی نگاہ میں بھی عمل صالح ہو اس لئے تمہاری روح کی بھی آواز یہی ہونی چاہیے کہ اِنَّنِی مِنَ المُسْلِمِينَن کہ میں آستانہ الہی پر ہر وقت جھکی ہوئی ہوں اور تمہاری روح دنیا کے کان میں یہ آواز ڈالے کہ میں نے اپنا اور اپنوں کا سب کچھ اپنے رب کی راہ میں قربان کر دیا ہے۔(خطبات ناصر جلد دوم ۱۲۰ تا ۱۲۴) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص کے قول سے اور کون سا قول بہتر ہے کہ جس نے دعوت الی اللہ کی اور جو اپنے ایمان کے مطابق اعمال صالحہ بجالا یا اور اعلان کیا کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں یعنی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے اس کا کامل فرمانبردار ہوں۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے شخص کا قول جو دعوت الی اللہ کرتا ہے کس کے نزدیک دوسرے لوگوں کے قول سے بہتر ہے؟ سو ایک تو اس سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے قرآن نازل کیا اور دوسرے اس سے مراد اہل بصیرت ہیں کیونکہ اَحْسَنُ کا لفظ ایک تو اس حسن پر بولا جاتا ہے جس کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو اور دوسرے یہ لفظ اس حسن کے لئے بھی بولا جاتا ہے جس کا بصیرت سے تعلق ہو۔اسی لئے حضرت امام راغب نے مفردات میں لکھا ہے اَحْسَنُ قَوْلاً سے مراد یہ ہوگی کہ اللہ اور اس کے مقربین کے نزدیک اس سے زیادہ اچھا اور کوئی قول نہیں کہ انسان لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے۔یہاں قول سے مراد ظاہری الفاظ بھی ہیں، اعتقاد بھی اور اعتقاد کے مطابق کئے جانے والے اعمال بھی کیونکہ قول کا لفظ قرآن کریم میں ظاہری الفاظ اعتقاد اور عمل تینوں پر بولا جاتا ہے۔اسی لئے حقیقی مومن وہی کچھ زبان سے کہتا ہے جس پر اس کا پختہ اعتقاد ہوتا ہے اور پھر اس کا عمل بھی اس اعتقاد کے