انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 236
۲۳۶ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث نے اکٹھی کر دیں اُن میں سے بعض کی طرف میں نے اسی رمضان میں ایک خطبہ میں اشارہ کیا تھا اور بھی بہت ساری قربانیاں ہیں اور دن اور رات ہر دو اوقات میں خدا کے حضور اس کا عاجز بندہ استقامت اور استقلال کے ساتھ قربانیاں دیتا چلا جاتا ہے پھر خدا کے فرشتے آسمان سے اس پر نازل ہوتے اور بشارتوں کا اس کے لئے سامان پیدا کر دیتے ہیں۔آخر میں لیلتہ القدر آجاتی ہے ( جو بھی صحیح معنی ہم کرتے ہیں اس کے لحاظ سے ) وہ قبولیت دعا کا زمانہ ہے لیلۃ القدر کا زمانہ ہے جس میں تقدیریں بدل جاتی ہیں۔انسانیت کی بھلائی کے لئے انتظام کر دیا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد عید آجاتی ہے یہ عید ہر ہفتہ میں جمعہ کے دن بھی آتی ہے کیونکہ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سال کے بعد خدا تعالیٰ ہماری ضیافت اور مہمانداری کرتا ہے اس طرح تو سال کے باقی دنوں میں ہم روحانی طور پر بھوکے رہ جاتے اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا نہیں، میں ہر ہفتہ تمہاری دعوت کیا کروں گا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر جمعہ مسلمانوں کے لئے عید یعنی نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول قرآن کریم کی تفسیر ہے۔عید کے متعلق آپ کے سب اقوال نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِیم یا اس سے ملتے جلتے مفہوم کی آیات جو مختلف مضامین کے سیاق و سباق کے لحاظ سے قرآن کریم کی مختلف جگہوں پر پائی جاتی ہیں انہی کی تفاسیر ہیں پس رمضان کے بعد عید پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا ایک اور ضیافت ہے جو خدائے غفور و رحیم کی طرف سے ہر جمعہ کو میسر آیا کرے گی۔پھر ہر روز کی ضیافت ہے اور وہ رات کے نوافل سے حاصل ہوتی ہے۔ہر روز کی قربانی کے بعد قبولیت دعا کا ایک وقت عطا کر دیا جاتا ہے لقا کے ساتھ بہت سے لوازمات ہیں جن کا ذکر قرآن کریم ہی میں بہت سی جگہوں پر آیا ہے۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ الَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا خطبات ناصر جلد دهم صفحه ۵۳ تا ۵۸) اس کے علاوہ بھی اور بہت سی آیات ہیں جن میں لقاء باری تعالیٰ کا ذکر آیا ہے۔اس لقا کے بہت سے لوازمات بھی ہیں جن کو ہم برکات سماویہ بھی کہتے ہیں اور مکالمات الہیہ بھی کہتے ہیں۔ہم ان کو قبولیتیں بھی کہتے ہیں اور خوارق بھی کہتے ہیں۔امت محمدیہ میں یہ پھل یعنی خدا تعالیٰ کا قرب اور پیار اس کثرت سے انسان کو ملا ہے کہ اس کا شمار بھی مشکل ہے اور لقا کے جو لوازمات تھے ان میں لوگ