انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 237
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۳۷ سورة حم السجدة کثرت سے حصہ دار بنے مگر باذْنِ رَبِّهَا یعنی اللہ تعالیٰ کے اذن کے ساتھ گویا قرآن عظیم کے نزول کے ساتھ لوگوں کی ربوبیت تامہ کا سامان ہو گیا۔چنانچہ جب ہم کائنات پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کی نشوونما ہوتی ہے مثلاً گندم ہے میں نے پہلے بھی بتایا تھا آج کی گندم اور آج سے پانچ ہزار سال پہلے کی گندم میں فرق ہے اس لئے کہ اب تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ ستاروں کی روشنی اجناس کی نشو و نما پر اثر ڈالتی ہے اور تحقیق سے یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ پچھلے پانچ ہزار سال میں شاید ہزاروں نئے ستاروں کی روشنی اس زمین پر پہنچی۔پانچ ہزار سال پہلے جتنے ستاروں کی روشنی گندم کی پرورش کیا کرتی تھی اس سے کئی ہزار زیادہ ستارے آگئے آسمانوں پر، گندم اور دیگر غذاؤں کی پرورش کرنے کے لئے یعنی انسان کی جسمانی اور ذہنی اور اخلاقی اور روحانی نشو نما کے لئے کیونکہ غذا کا گہرا اثر انسانی ذہن، اخلاق اور روحانیت پر پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح انسان کی غذا ئیں اس کے جسم پر اور اس کے ذہن پر اور اس کے اخلاق پر اور اس کی روحانیت پر اثر انداز ہوتی ہیں ان میں بھی نشوونما ہو کر اجناس کے بیج میں بھی ایک کمال پیدا ہوا ہے اور انسان کی قوتوں اور استعدادوں کو اس معنی میں بھی ترقی ملی ہے اسے خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہوا ہے۔دنیا کے ہر حصے نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل یہ فیض پایا۔قرآن کریم جیسی عظیم ہدایت ان کو ملی۔قرآن کریم کی محبت دلوں میں ڈالی گئی۔قرآن کریم کا عشق لوگوں کی روح کے اندر پیدا کیا گیا۔قرآن کریم کا اتنا پیار کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:- دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے (در ثمین صفحه ۸۴) یہ ایک عاشق دل کی پکار ہے کیونکہ جو انسان عقل رکھتا ہے اور فراست رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے اور خدا سے پیار کا حصول چاہتا ہے اور لقا چاہتا ہے اور رضوان باری چاہتا ہے اسے معلوم ہے کہ خدا کو پانے کے سارے راستے قرآن میں بیان کر دیئے گئے ہیں اور ان پر چل کر ہی اللہ تعالیٰ کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۱۲۹ تا ۱۳۱)