انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 235 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 235

۲۳۵ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث پس اس دنیا کی جنت دو قسم کی ہے۔ایک وہ جنت ہے جس میں بعض انسان داخل ہوتے ہیں اور پھر نکل آتے ہیں اور پھر جہنم میں بھیج دیئے جاتے ہیں۔ایک وہ جنت ہے جس میں لوگ داخل ہوتے ہیں اور داخل ہی رہتے ہیں۔ان لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اِستَقَامُوا یعنی جن میں استقامت پائی جاتی ہے استقلال پایا جاتا ہے، جو صبر کے ساتھ مشکلات برداشت کرتے ہیں جو خدا کی راہ میں اپنی گردن کٹواتے ہیں لیکن اپنے ایمان پر بزدلی کا دھبہ نہیں آنے دیتے فرمایا یہی وہ لوگ ہیں کہ جب جنت میں داخل ہو جاتے ہیں تو پھر ان کے جنت سے نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پس ہماری عید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نُزُلاً مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ہے یعنی وہ ہماری خطاؤں کو معاف کرتا ہے۔مغفرت کی چادر میں ہمیں لپیٹ لیتا ہے۔ہم جو کچھ اپنی ہمت اور استعداد کے مطابق اس کے حضور پیش کرتے ہیں اور بار بار پیش کرتے ہیں مثلاً جن لوگوں کو خدا تعالیٰ زندگی دیتا ہے تیس سال تک چالیس سال تک اُن میں سے ہر شخص رمضان کے روزے رکھتا ہر سال رمضان کی قربانیاں اپنی ہمت اور استعداد کے مطابق خدا کے حضور پیش کرتا اور خدائے رحیم بار بار اس پر رحم کرتا ہے اور اس کے لئے ہر رمضان کے بعد ایک عید کا سامان پیدا کر دیتا ہے پہلوں کی عید بار بار آتی تھی لیکن اس لفظ عید میں یہ مفہوم نہیں تھا کہ وہ قربانیاں دیں گے اور دیتے چلے جائیں گے، اس میں ایک تسلسل قائم ہوگا، نیکیوں پر استقامت ہوگی، استقلال ہوگا صبر اور برداشت ہوگی ، خدا کے لئے فدائیت ہوگی اس کے لئے محبت ذاتی ہوگی اور اس کی قبولیت ہوگی اور اس کے بعد عید کا دن آجائے گا۔عید ان کے یعنی پہلوں کے ہاں آتی تھی اور یہ وہ عید تھی جس میں کھانے پینے اور کھیلنے اور کپڑے بنانے کا انتظام ان کو خود کرنا پڑتا تھا۔مسلمان کی وہ عید نہیں ہے مسلمان کی ہر عید تو قربانیوں کے ایک تسلسل میں آتی ہے اسی لئے فرما یا إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا یعنی وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہی ہمارا رب ہے اور پھر مستقل مزاجی سے اس عقیدہ پر قائم ہو گئے ان کے حق میں فرمایا۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُم تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الأخرة وہ جنت ہے جو دنیا میں بھی ملتی ہے اور یہ وہ عید ہے جو خدائے غفور ورحیم کی طرف سے نزل یعنی مہمانی کے طور پر ملتی ہے مومن کی قربانیوں میں ایک تسلسل ہوتا ہے وہ یکے بعد دیگرے قربانیاں دیتا چلا جاتا ہے۔ماہ رمضان اس کی مثال ہے۔تیس دن میں بہت ساری قربانیاں اللہ تعالیٰ