انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 227 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 227

تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۲۲۷ سورة حم السجدة ور نہ خود ان کے اپنے وجود میں کوئی بھی ایسا نہیں اور قابلیت نہیں اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو انہوں نے اپنے زور سے اور اپنی طاقت سے حاصل کی ہو جس ہنر اور قابلیت کے نتیجہ میں وہ احسان کا ارادہ کریں اور جس چیز کو لے کر وہ دوسرے پر احسان کریں اور اسی کو عطا کریں۔غرض نہ وہ چیز جوان کے پاس ہے ان کی اپنی یا ان کے اپنے زور سے حاصل کردہ ہے اور نہ ان کی احسان کی قوت اور ارادہ اور خواہش اپنی ہے۔یہ سب کچھ ربنا اللہ اللہ کی توفیق سے ہی میسر آتا ہے جو ہمارا رب ہے۔کئی لوگ دوسروں کو عطا کرتے ہیں اور صفات باری سے عملی طور پر متصف ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے قرب کو پاتے اور اس کو پہچانتے اور اس کا عرفان حاصل کرتے ہیں اور ان کے لئے عید کے دن اور عید کے اوقات مقرر کئے جاتے ہیں۔دوسرا بڑا ذریعہ یا سامان جس کے نتیجہ میں انسان کے لئے حقیقی عید یا خوشی پیدا ہوتی ہے وہ استقامت ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا - استقامت کے معنی یہ ہیں کہ وقتی طور پر اور عارضی طور پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے کا سوال نہیں بلکہ جب اپنے رب کو اور اپنے اللہ کو پہچان لیا تو اس کی کامل اطاعت اور مسلسل اطاعت اور ہمیشہ کی اطاعت اور ہمیشہ کا پختہ تعلق اس سے ضروری ہے کیونکہ جو آج کھاتا ہے اور کل بھوکا رہتا ہے اس کو سیر نہیں کہا جاسکتا۔رمضان میں ہم نے یہ سبق بھی سیکھا ہے ہم دن کو بھوکا رہتے تھے اور رات کو ہم کھاتے تھے اور جتنا چاہتے تھے کھاتے تھے اور دن کو ہم بھوکے رہتے تھے تو ہم بڑی بھوک محسوس کرتے تھے۔پس رات کا کھانا دن کی سیری کا سبب نہیں بنا کرتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سے ایک وقت میں تعلق کو قائم کر کے اس کے پیار کو وقتی طور پر حاصل کر لیتا۔اس دنیا میں آئندہ زمانہ کی سیری کے سامان نہیں پیدا کیا کرتا۔اس دنیا کے حالات تو تفصیلاً ہم جانتے نہیں اس لئے ہم اس دنیا کی بات کریں گے۔جس طرح اس دنیا میں کھانے کی بار بار ضرورت پڑتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے پیار کی نگاہوں کی ہمیں بار بار ضرورت پڑتی ہے اور وہ پیار کی نگاہیں قربانی اور ایثار کے بغیر ہم حاصل نہیں کر سکتے غرض استقامت کے معنی ہیں کہ جب تعلق قائم کر لیا تو پھر وہ ٹوٹے گا نہیں اور وہ اتنا پختہ ہے کہ دنیا جتنا چاہے زور لگالے وہ ٹوٹ نہیں سکتا۔لیکن اللہ تعالیٰ دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ یہ لوگ میرے بڑے ہی محبوب اور پیارے بندے ہیں۔یہ مجھ سے چمٹ گئے ہیں اور اب تم ان کو میرے دامن سے علیحدہ نہیں کر سکتے۔نیز دنیا کو