انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 223 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 223

۲۲۳ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث احسن تقویم کی صورت میں پیدا کیا ہے یا یہ کہ تم بشریت کے مقام سے سرفراز ہوئے لیکن تمہاری آخری منزل یہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس غرض کے لئے پیدا نہیں کیا تمہیں روحانی منزلیں طے کرنے کے لے پیدا کیا گیا ہے اور ان کی تو کوئی انتہا ہی نہیں کیونکہ جب خدا تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں بے انتہا اور وراء الوراء ہے تو ظاہر ہے اس کے قرب کے بھی لامحدود درجے اور منازل ہیں۔کسی بھی مقام پر جا کر وہ ختم نہیں ہوتے۔پس اس نہ ختم ہونے والی منزل پر انسان کا ہر قدم جو پڑتا ہے اور ہر ساعت جو گزرتی ہے وہ اس کی زندگی کی بلکہ سارے انسانوں کی زندگیوں کی ساری لذتوں اور سرور سے زیادہ اچھی ہوتی ہے۔وہ زیادہ خوشی پہنچانے والی ہوتی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کے پیار کی جھلک دنیا کے پیار اور محبت سے کہیں برتر اور اعلیٰ ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیار اور محبت کا مقابلہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔بہر حال آپ بنی نوع انسان تک یہ پیغام پہنچا نہیں سکتے جب تک پہلے آپ اس کو یہ خوشخبری نہ دے دیں کہ دیکھو إِنَّمَا أنا بشر مثلکم کا اعلان کر دیا گیا۔ایک عظیم الشان بشارت انسان کو مل چکی۔احسن تقویم کا مقام اسے حاصل ہو گیا۔ہر انسان خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں پیدا ہوا ہو خواہ وہ کسی بھی زمانہ سے متعلق ہو انسانی شرف اور مرتبہ ہر دوسرے انسان کے مساوی اور برابر ہے۔کوئی انسان دوسرے انسان سے برتر نہیں کسی کے متعلق زیادہ معزز اور کم معزز کا فقرہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔جب انسان اپنا یہ مقام پہچان لیتا ہے تو گویا وہ ایک ایسے دور میں داخل ہو جاتا ہے جس میں داخل ہونے کے بعد انسانی عزت قائم ہو جاتی ہے اُسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جاتی ہے لیکن اگر انسان اس دور میں داخل ہو کر اس دور کی ذمہ داریوں کو نہیں نہا ہتا اور فطرت کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے قہر اور غضب اور نفرت اور حقارت کا مستوجب ٹھہرتا ہے۔اس کے برعکس اگر تمہاری فطرت اگر تمہاری روح اس کو برداشت نہیں کرتی تو پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس سیر روحانی کو شروع کرو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شاہراہ پر قدم بقدم رفعتوں کے حصول کے بعد خدا تعالیٰ کے انتہائی قرب کو پایا وہی راہ ہم سب کے لئے کھلی ہے۔اس راہ پر چل کر ہم بھی اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر سکتے اور اس کے غضب سے بچ سکتے ہیں۔اس راہ کو اختیار کرتے ہوئے ہوسکتا ہے کسی کے حصہ میں اللہ تعالیٰ کا پیار شاید کم آئے اور کسی کے حصہ میں زیادہ لیکن ہر ایک کو خدا تعالیٰ کا پیار میسر آ جاتا اور اس کی رضا حاصل ہو جاتی ہے۔خدا کرے کہ بنی نوع انسان کا ہر فرد۔