انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 224
۲۲۴ سورة حم السجدة تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث اس حقیقت کو سمجھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کے الفاظ میں جو عظیم الشان اعلان کروایا گیا ہے ہر انسان اس ندا پر کان دھرے اور اپنی زندگی میں ہرلمحہ یہ کوشش کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اس کو حاصل ہو۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۰۴ تا ۸۱۵) آیت ۳۱ تا ۳۳ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمُ تُوعَدُونَ نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ۔ترجمہ :۔وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر مستقل مزاجی سے اس عقیدہ پر قائم ہو گئے ان پر فرشتے اتریں گے یہ کہتے ہوئے کہ ڈرو نہیں اور کسی پچھلی غلطی کا غم نہ کرو اور اس جنت کے ملنے سے خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ہم دنیا میں بھی تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے دوست رہیں گے اور اس (جنت) میں جو کچھ تمہارے جی چاہیں گے تم کو ملے گا اور جو کچھ تم مانگو گے وہ بھی تم کو اس میں ملے گا۔یہ بخشنے والے اور بے انتہا کرم کرنے والے خدا کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہوگا۔اگر چہ ان آیات میں جو میں نے ابھی تلاوت کی ہیں عید کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا تا ہم حقیقی عید کی تمام مسرتیں ہیں اس میں جمع کر دی گئی ہیں۔ایک مومن کی حقیقی عید یہی ہوتی ہے کہ اسے خدا کا پیارمل جائے۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر رجوع برحمت ہونا اور انہیں فوز و فلاح کی شکل میں جنتوں کی بشارتوں سے نوازنا ہی اصل عید ہے۔ادھر عید کہتے ہی بار بار آنے والی خوشی کو ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک نہیں مومنوں کے لئے کئی عیدیں مقرر کی ہیں جو بار بار ظاہر ہوکر ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے پیار کی بشارتوں سے نوازنے کا موجب بنی ہیں۔(خطبات ناصر جلد دہم صفحه ۸۴،۸۳) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر قوم اور ہر جماعت نے اپنے لئے خوشیوں کے تہوار بنائے ہوئے ہیں اور ہماری عید کا دن تو یہ ہے جو رمضان کی عبادت کے بعد آتا ہے اسی طرح ایک اور