انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 209
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۲۰۹ سورة حم السجدة میں موجود ہے، دہریت کا ذرہ بھی اس کے اندر باقی نہ رہے اور وہ اس یقین پر قائم ہو کہ خدا واحد ہے اور شرک کا کوئی پہلو اس کی فطرت کے اندر باقی نہ رہے اور وہ یہ یقین کرے کہ اللہ وہ ذات ہے جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور اللہ وہ ذات ہے جس کے اندر کسی کمزوری اور نقص اور ناپاکی کا تصور بھی نہیں ہو سکتا یعنی جس معنی میں اسلام اور قرآن کریم نے اللہ کو پیش کیا ہے اس اللہ کی معرفت اسے حاصل ہو جائے اور اس کی عظمت اور جلال کے نتیجہ میں انسان عبد بننے کی طرف مائل ہو ، عبد بننے کی کوشش کرے اور پھر قرآن کریم کی بتائی ہوئی راہوں کو اختیار کر کے عبد بن جائے اور اس مجاہدہ کے نتیجہ میں جو اسلام نے بتایا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حسن اور اس کے احسان کے جلوؤں کو اپنی زندگی میں پائے اللہ تعالیٰ کی محبت اسے حاصل ہو اور وہ اس کا عاشق ہو جائے اللہ تعالیٰ کی محبت اسے حاصل ہو اور وہ اس کا محبوب بن جائے۔اس طرح اس کا مقصد اسے حاصل ہو اس مقصد کے حصول کی جو راہیں بتائی گئی ہیں ان میں ایک استقامت ہے یعنی جب رشتہ جوڑا تو پھر طوفان، آندھیاں ،زلزلے،ساری دنیا کی نفرت اور ساری دنیا کی کوشش اس رشتہ کو توڑنے میں کامیاب نہ ہو۔ایک دفعہ اس پیارے کے پیار میں گم ہوئے تو پھر اس محبت کے سمندر سے سر باہر نہیں نکالنا۔یہ ہے استقامت اور جب تک استقامت حاصل نہ ہو یعنی ہمیشہ کے لئے پختہ عہد نہ ہو اس وقت تک ہم اللہ تعالیٰ کے دائمی فضلوں کو حاصل نہیں کر سکتے اور اس آخری کامیابی اور فلاح کے وارث نہیں بن سکتے جس کا وعدہ اس نے اسلام کو دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس وسیلہ کے متعلق فرماتے ہیں:۔”چھٹا وسیلہ اصل مقصد کے پانے کے لے استقامت کو بیان فرمایا گیا ہے یعنی اس راہ میں درماندہ اور عاجز نہ ہو اور تھک نہ جائے اور امتحانوں سے ڈر نہ جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ الا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ أَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الحيوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ یعنی وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے اور باطل خداؤں سے الگ ہو گئے پھر استقامت اختیار کی یعنی طرح طرح کی آزمائشوں اور بلا کے وقت ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اُترتے ہیں کہ تم مت ڈرو اور مت غمگین ہو اور خوش ہو اور خوشی میں بھر جاؤ کہ تم اس خوشی کے وارث ہو گئے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے ہم اس