انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 206
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۲۰۶ سورة حم السجدة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح میں نے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو حاصل کیا ہے۔اسی طرح تم بھی اگر چاہو تو ان نعمتوں کو حاصل کر سکتے ہو۔شرط یہ ہے کہ تم اپنے خدائے واحد و یگانہ کی معرفت حاصل کر لو اور اس کی عظمت اور جلال کے تقاضوں کو پورا کرو اور جب تم اس سے ایک دفعہ تعلق قائم کر لوتو پھر تمہارے پاؤں میں لغزش نہ آئے تمہیں استقامت کا مقام حاصل ہو تمہیں صبر کا مقام حاصل ہو تو تم بھی میری طرح اپنی اپنی استعداد کے مطابق اپنے رب کی نعمتوں کے وارث ہو جاؤ گے لیکن اس بات کو یاد رکھو کہ جس طرح میں ایک بشر ہوں تم بھی بشر ہو اور بشری کمزوریوں کے ضرر سے بچنے کے لے خدا تعالیٰ کی مغفرت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے وَاسْتَغْفِرُوہ تم کثرت کے ساتھ استغفار کرو اور اتنی کثرت کے ساتھ استغفار کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تمام بشری کمزوریوں کو ڈھانپ لے اور جب تمہاری تمام بشری کمزور یاں خدا تعالیٰ کی مغفرت کی چادر کے نیچے چھپ جائیں گی تو تمہاری تمام بشری قوتیں اور استعداد میں خدا تعالیٰ کے حکم سے صحیح نشو و نما پائیں گی اور تم خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرو گے۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَاللهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ (البقرة :٢٠٨) کہ یہ حکم سننے کے بعد کہ ایک کامل اور مکمل شریعت کا نزول ہو چکا اور ایک حقیقی اور سچے تعلق باللہ کا سامان پیدا ہو گیا اس لئے اے نوع انسان فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا جنہوں نے اپنے نفوس کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے حصول کے لئے بیچ ہی ڈالا اور عمر بھر کا سودا کر لیا یہ نہیں کہ آج ایک عہد باندھا اور کل اسے توڑ دیا۔یہ نہیں کہ آج تو اپنے رب سے ایک سودا کیا اور کل اسے فسخ کیا اور بلکہ عمر بھر کے لئے انہوں نے اپنی جانوں اور اپنے نفوس کا اپنے رب کی رضا کے لئے سودا کر لیا اور اس طرح پر انہوں نے اپنے اس رب کی رافت اور رحمت کے جلوے دیکھے جو ان لوگوں کے لئے رؤوف ہے جو اس کے حقیقی بندے بن جاتے ہیں اور اس قدر حسین جلوے دیکھے کہ ان کی وجہ سے امم سابقہ امت مسلمہ پر رشک کریں۔جس نفس کے سودے کا یہاں ذکر ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کو جو اندرونی اور بیرونی اعضاء دیئے گئے ہیں اسے جو باطنی اور ظاہری قوتیں اور استعداد میں عطا ہوئی ہیں وہ اس غرض کے لئے ہیں کہ انسان اپنے رب سے سودا کر لے یعنی یہ عطا ہے وہ ظاہری اعضاء کے لحاظ سے ہو یا باطنی