انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 201
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۰۱ سورة المؤمن سے گناہ سے بچ نہیں سکتا۔اس طرح کہ وہ پاک اور مطہر بن جائے کیونکہ بتایا گیا تھا لا تز کوا انفسکم اپنی کوشش، اپنی تدبیر سے تم خدا کی نگاہ میں پاک اور مطہر نہیں بن سکتے اور دوسرے استغفار کے معنی یہ ہیں کہ گناہ سرزد ہو گیا اس کے بدنتائج سے انسان بچنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن طاقت نہیں رکھتا۔طاقت خدا رکھتا ہے کہ جو اس سے گناہ سرزد ہوا اس کے بدنتائج سے وہ اپنی رحمت سے اسے محفوظ کرلے تو ایک تو استغفار ذریعہ بتایا کہ خدا سے کہو کہ خدا یا ہم پر ایسے فضل کر۔یہ استغفار کے معنوں کا حصہ ہے، ایسا فضل کر ہم پر کہ ہم سے گناہ سرزد نہ ہوں ایسی باتیں نہ کریں ہم، ایسے اعمال نہ بجالائیں جو تیری ناراضگی کا موجب ہو جائیں اور اگر بشری کمزوری کے نتیجہ میں ہم سے ایسے گناہ سرزد ہو جائیں تو ان کے بدنتائج سے ہمیں محفوظ کر لے۔ہمارے گنا ہوں کو معاف کر دے۔اور آٹھویں اور آخری بات جو اس وقت میں کہنا چاہتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بتائی کہ جس فضل اور رحمت کا تعلق استغفار سے ہے انسان کہتا ہے اے خدا! اپنے فضل اور اپنی رحمت سے گناہ سرزد ہونے سے بچالے سرزد ہو جائے تو ان کے بدنتائج سے بچالے۔یہ فضل اور رحمت انسان اپنے زور اور طاقت سے یا اپنی تدبیر سے اللہ تعالیٰ سے حاصل نہیں کر سکتا۔اس کے لئے یہ بتایا گیا و سیخ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِي وَالْإِبْكَارِ کہ صبح و شام اٹھتے بیٹھتے خدا کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔دوسری جگہ فرمایا يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمُ (ال عمران : ۱۹۲ ) تو خدا کی حمد میں مصروف رہو خدا کی تسبیح میں مصروف رہو اس کے نتیجہ میں فضل ملے گا فضل کے نتیجے میں گناہ کے سرزد ہونے سے محفوظ ہو جاؤ گے گناہ سرزد ہو جائیں تو ان کے بداثرات سے محفوظ ہو جاؤ گے۔استغفار کی دعا قبول ہوگی اور اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوگا۔اگر تم خدا کو یاد رکھو گے خدا تمہیں یادر کھے گا اُذْكُرُوا اللهَ يَذْكُرُكُمْ۔یہاں یہ بات بھی یادر کھنے کی ہے کہ ایک تو فرائض ہیں۔حکم ہے کہ یہ عبادات بجالاؤ۔ایک وہ عبادات ہیں جو فرائض نہیں نوافل کہلاتے ہیں۔فرض تو وہ ہے کہ باپ اپنے بیٹے کو یا اللہ اپنے بندے کو جھنجوڑ کے کہتا ہے کہ پانچ وقت مسجد میں جاکے نماز پڑھو۔یہ فرض ہے کہتا ہے کہ نہیں کرے گا تو میں تجھ سے ناراض ہو جاؤں گا۔ناراضگی سے بچنے کے لئے فرائض ہیں۔فرائض کے ساتھ جو اس کی رحمتیں لگی ہوئی ہیں ان کے حصول کے لئے فرائض ہیں لیکن بلندیوں کے حصول کے لئے ( مسجد کے۔اندر دوسروں کے کندھوں پر سے آگے آتے ہوئے ایک شخص کو دیکھ کر حضور نے فرمایا ) :-