انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 190 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 190

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۹۰ سورة المؤمن کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو العزیز صفت سے متصف ہے۔جو غالب ہے اور کوئی اور ہستی اس پر غالب نہیں آسکتی۔کیونکہ اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں۔عزیز کے ایک معنی اس قسم کی عزت اور طاقت اور غلبہ رکھنے والی ہستی کے ہوتے ہیں کہ جس کے مقابلہ میں اس جیسی قوت اور طاقت اور غلبہ رکھنے والی کوئی اور ہستی نہ ہو۔اس لحاظ سے وہ بے مثل ہو۔تو اس ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اس عزیز خدا کی طرف سے جو کتاب نازل کی گئی اس کتاب میں بھی یہ خوبی ہے کہ وہ بے مثل ہے۔ایسی خوبیوں کی حامل، رضا الہی کی اس قدر فراخ راہیں دکھانے والی ہے کہ دنیا میں جس قدر کتب سماوی گزری ہیں وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں اور نہ کسی انسان کی طاقت میں یہ ہے کہ اس کا مثل معرض وجود میں لا سکے۔اس کتاب میں کامل حسن اور کامل تعلیم اور کامل ہدایت پائی جاتی ہے۔اس بے مثل اور یگانہ ذات کے پر تو نے اس کتاب کو بھی بے مثل کر دیا ہے۔اگر تم اس کتاب کی تعلیم پر عمل کرو گے تو تم بھی ایک واحد و یگانہ بے مثل قوم بن جاؤ گے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : ۱۱۱) تم وہ اُمت ہو جس سے بہتر اُمت اس دنیا میں پیدا نہیں کی گئی تم وہ اُمت ہو جس سے زیادہ احسان ، انسان پر کسی اُمت نے نہیں کیا۔پس پہلی خوبی اس کتاب کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتائی کہ اپنے کمال کے باعث یہ کتاب بے مثل ہے۔اور اپنی تعلیم کی وجہ سے یہ کتاب اُمت مسلمہ کو ایک بے مثل و بے مثال اُمت بنانے کی اہلیت رکھتی ہے۔(۲) دوسری اندرونی خوبی ہمیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی کہ یہ وہ کتاب ہے تنزیل مِنَ اللهِ الْعَلِيمِ۔اس ذات نے اسے اتارا ہے جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔حقائق اشیاء اور مخلوق کے غیر محدود خواص کا علم صرف اسی پاک ذات کو ہے اور صرف وہی خدا اس بات پر قادر تھا کہ فطرت انسانی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والی کتاب اور ہدایت نازل کرتا اور ایک ایسی شریعت انسان کو دیتا جو ہر قوم اور ہر زمانہ کی ضروریات کو پورا کرنے والی ہوتی۔پس یہی وہ کتاب ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی اور ہدایت کی انسان کو ضرورت نہیں رہتی۔ہر زمانہ کے مسائل کو یہ سلجھا دیتی ہے۔روحانی علوم کے نہ ختم ہونے والے چشمے اس سے پھوٹتے ہیں اور مادی علوم کی بنیادی صداقتیں اور اصول اس میں جمع کر دئے گئے ہیں۔