انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 191 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 191

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۹۱ سورة المؤمن پس اگر تم روحانیت میں ترقی حاصل کرنا چاہتے ہو، یا دنیوی علوم میں فوقیت اور رفعت کے مقام تک پہنچنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم اس کتاب کی پیروی کرنے والے بنو۔اگر تم اس کتاب کی آواز کی طرف متوجہ نہ ہو گے۔اس کی وہ قدر نہیں کرو گے جو کرنی چاہیے تو نہ روحانی میدان میں تم کوئی ترقی حاصل کر سکو گے اور نہ دنیوی علوم میں دوسروں سے مقابلہ کرنے کی طاقت اپنے اندر پیدا کرسکو گے۔پس مادی اور روحانی ہر دو لحاظ سے علوم میں اگر ترقی کرنی ہے اور روحانی علوم کو حاصل کر کے میدان عمل میں تم نے اترنا ہے تو تمہیں اس کتاب کی ہدایت کی ضرورت ہوگی اور اگر تم اس کے علوم حاصل کر لو گے اور اس کے مطابق عمل کرو گے تو خدائے علیم جو ہر چیز کو جاننے والا ہے اور جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔وہ تمہیں اپنے قرب کے وہ مقامات عطا کرے گا جن سے تم راضی ہو جاؤ گے جیسا کہ وہ تم سے راضی ہو گا۔(۳) تیسری صفت یہاں قرآن کریم کی اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ یہ اس ہستی کی طرف سے اتارا گیا ہے جو غافر الذنب ہے۔گناہوں کو بخشنے والا ہے۔پس یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں ان نیکیوں اور ان حسنات کے کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔جو نا سمجھی کے گناہوں اور بداعمالیوں کوخس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتی ہے اور وہ طریق بتائے گئے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسان نفس امارہ پر قابو پالیتا ہے اور میلان گناہ کو اپنے پاؤں کے نیچے پھل دینے کی قوت پاتا ہے۔مَغْفِرَةٌ کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ وہ گناہ جو سر زد ہو چکے ہوں اللہ تعالیٰ ان کے بداثرات اور اپنے غضب اور عذاب سے مغفرت چاہنے والے کو محفوظ کرے۔تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ اگر تم اپنے گناہ پر پشیمان ہو اور استغفار کرو اور چاہو کہ خدا تعالیٰ تمہارے ان گناہوں کو معاف کر کے ان کے بداثرات سے تمہیں محفوظ کرے تو تمہیں ان طریق کو اختیار کرنا ہوگا جو قرآن کریم میں بتائے گئے ہیں۔دوسرے معنی مَغْفِرَةٌ کے یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسی قوت انسان کو عطا کرے کہ گناہ کی طرف جو میلان اس کی طبیعت میں پایا جاتا ہو یا جو زنگ اس کی فطرت صحیحہ پر لگ چکا ہو وہ زنگ دور ہو جائے اور وہ میلان قابو میں آجائے اور انسان کا شیطان مسلمان ہو جائے اور گناہ کی طرف رغبت ہی باقی نہ