انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 10 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 10

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث +1 سورة الروم کی راہ میں حائل نہ ہو جائیں۔ایسا نہ ہو کہ کوئی اور قوم پیدا ہو جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے یہ وعدے پورے ہوں اور وہ ان بشارتوں کی وارث بن جائے۔دوسرے فرمایا غرور نہیں کرنا بلکہ ہر حال میں خدا تعالیٰ سے طاقت حاصل کر کے کامیابی کی راہوں کو تلاش کرنا ہے پھر فرمایا جس شخص نے خدا تعالیٰ سے طاقت حاصل کرنی ہو اس کے لئے دو باتیں ضروری ہیں ایک تسبیح کرنا اور دوسرا تحمید کرنا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِي وَالْإِبْكَارِ تم شام اور صبح کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے رہو اور حمد بھی کرتے رہو۔ہمارا بھی یہی محاورہ ہے اور دوسرے ملکوں کا بھی یہی محاورہ ہے کہ جب اس قسم کا مفہوم ادا کرنا ہو تو ہم کہتے ہیں صبح و شام ایسا ہوتا ہے اس آیت میں یہ ترتیب بدل دی گئی ہے فرمایا تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرو بِالعَشِي وَ الْإِبْكَارِ شام کے وقت بھی اور صبح کے وقت بھی دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی مجاہدہ یعنی غلبہ اسلام کے لئے جو جد و جہد کی جاتی ہے اس کی حرکت اندھیروں سے روشنی کی طرف تھی۔روشنی سے اندھیروں کی طرف نہیں تھی۔اس میں ایک لطیف اشارہ پایا جاتا ہے ایک تو وہ رات ہے جو سورج کے غروب ہونے پر دھند لکے سے شروع ہوتی ہے اور ایک اس وقت کی رات ہے جس وقت مسلمانوں کو روشنی نظر نہیں آ رہی تھی ان کو تکالیف کا سامنا تھا۔ان پر ظلم وستم ہو رہے تھے، کفر نے ان کی ترقی کے راستے میں روکیں پیدا کی ہوئی تھیں۔پس اسلام کے غلبہ کے لئے مسلمانوں کی جدو جہد نشاۃ اولی میں بھی ظلمت سے نور کی طرف تھی اور نشاة ثانیہ میں بھی ظلمت سے نور کی طرف ہے۔اس لئے العشي پہلے کہا گیا ہے اور الابحار بعد میں کہا گیا ہے آیت کے اس حصے میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر تمہاری یہ حرکت قائم رہے تو جس طرح مثلا زمین کی حرکت قائم رہتی ہے۔عشی کے بعد صبح کا آنا یقینی ہے اسی طرح اگر تمہاری جد و جہد اور تمہاری قربانیاں اور ایثار بھی قائم رہے گا تو جس طرح رات کے اندھیروں کے بعد صبح صادق کا طلوع یقینی ہے اسی طرح تمہاری تکالیف کے بعد تمہاری کامیابی اور غلبہ اسلام بھی یقینی ہے۔( خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۳۸۸ تا ۳۹۰) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو الہی وعدوں پر ایمان نہیں رکھتے اور اُن کا یہ یقین نہیں مثلاً اس زمانہ میں یہ ہم کہیں گے کہ جن کو یہ یقین نہیں کہ مادی دنیا کی اس قدر ترقی کے زمانہ میں اسلام کے دوبارہ غالب آجانے