انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 9
۹ سورة الروم تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث مسلمانوں کے لئے بڑی برکتوں اور خوشیوں کا دن تھا کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا ہو گیا تھا۔یہ مختصر سا خاکہ ہے اسلام کی نشاۃ اولی یعنی اس کے پہلے دور کا جس میں اسلام اس وقت کی معروف دنیا پر غالب آیا لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اسلام کے دو عالمگیر غلبوں کی پیشگوئی کی گئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ بشارت دی تھی اور اُن سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ جس طرح اسلام پہلے زمانہ میں غالب آئے گا اسی طرح آخری زمانہ میں بھی سب ادیان پر غالب آئے گا۔خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۳۷۵ تا ۳۷۹) اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے وہ تو پورا ہو کر رہے گا۔اس کے وعدوں کو تو کوئی ٹال نہیں سکتا۔لیکن وہ لوگ جو اللہ کے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے وہ یہ کوشش کریں گے کہ تمہیں جادہ استقامت اور صراط مستقیم سے پرے ہٹا دیں۔فرمایا اُن سے ہوشیار رہنا اور ان کے دھوکے میں نہ آنا۔لا يُوقِنُونَ کے لفظ میں دونوں قسم کے لوگ آجاتے ہیں بلکہ تینوں آجاتے ہیں۔یعنی کمزور ایمان والا۔منافق اور منکر۔ان تینوں کو یہ یقین نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوں گے مگر ایک پکے اور پختہ ایمان والے مسلمان کو تو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے پر کامل یقین ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو ضرور پورا ہو کر رہے گا لیکن ساتھ ہی فرمایا اس کے لئے تمہیں استغفار کرنا پڑے گا۔کیونکہ اس وعدہ کے پورا ہونے کے رستہ میں تمہاری کمزوریاں حائل ہوسکتی ہیں۔جس کے نتیجہ میں وعدہ پورا ہونے میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک دوسری قوم پیدا کر دے۔جوان وعدوں کو پورا کرنے والی ہو۔اس لئے فرما یا تم ہمیشہ استغفار کرتے رہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استغفار کے معنے یہ کئے ہیں کہ انسان اپنے رب سے یہ درخواست کرتا رہے کہ اس کی بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو۔اللہ تعالیٰ بھی طاقت رکھنے والا اور قادر مطلق ہے اس کی طاقت سے انسان طاقت حاصل کرنے کی توفیق پائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا خدا کے وعدے تو ضرور پورے ہوں گے اسلام کو کامیابیاں نصیب ہوں گی۔مگر خدا کے وعدوں کی وجہ سے غرور نہ کرنا اور یہ نہ سمجھنا کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے وہ اُسے پورا کرے گا اس لئے ہم کمزوری دکھا جائیں تو کوئی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا کمزوری نہیں دکھائی بلکہ ہر وقت چوکس رہنا ہے اور استغفار کرتے رہنا ہے اس لئے ہم نے کوشش بھی کرنی ہے اور دعا بھی کرنی ہے کہ ہماری بشری کمزوریاں غلبہ اسلام