انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 185 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 185

تغییر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۱۸۵ سورة الزمر چاہیے کہ وہ ہماری خطاؤں کو اپنی مغفرت کی چادر سے ڈھانپ دے گا اور وہ محض احسان کے طور پر اور اپنی رحمانیت کی صفت کے ماتحت ہم سے سلوک کرے گا اور ہمیں اپنی رضا کی جنت میں داخل کرے گا یہ مومن بندہ کی دوسری شان ہے اور مومن بندہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔قُل يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَ انبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ۔اے محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) تو ان تمام بندوں کو جو تجھ پر اور مجھے پر ایمان لائے ہیں۔میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور وہ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے اعمال میں کچھ تقصیر بھی ہے اور گناہ کی آمیزش بھی ہے اور بعض لغزشیں بھی ان سے سرزد ہوئی ہیں تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ سب گناہ بخش دیتا ہے وہ بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے اگر تم سے بار بار تقصیریں اور گناہ سرزد ہوں تب بھی تم مایوس نہ ہو کیونکہ وہ بار بار رحم کرنے والا ہے اور تم سب اپنے رب کی طرف جھکو اور اس کے پورے پورے فرماں بردار بن جاؤ اس کے ارشاد اور ہدایت کے مطابق اچھے اعمال بجالا ؤ اور اس کی رضاء کو حاصل کرنے کی خاطر ان باتوں سے بچو جن سے بچنے کی اس نے تمہیں تلقین کی ہے۔اور مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ - پیشتر اس کے کہ ایسا عذاب نازل ہو جس کے نزول کے بعد تمہاری مددکو کوئی نہ پہنچ سکے۔یعنی اپنی زندگی میں اور موت سے پہلے اگر تم فرماں بردار بنے کی کوشش کرتے رہو گے۔تو اللہ تعالیٰ یقینا بخشنے والا ہے۔وہ تمہارے گناہ بخش دے گا لیکن اگر تم اپنی زندگی میں اور جب تک تمہارے ہوش و حواس قائم رہتے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہ کرو اور اس کی پرواہ نہ کرو۔تم دین و دنیا کے ابتلاؤں کو اپنے لئے ایک مصیبت جانو اور بد عملی ریاء اور استکبار میں اپنی زندگی گزار دو تو موت کے وقت تمہارا پچھتانا تمہیں کوئی کام نہ دے گا بلکہ تمہیں ایسا عذاب ملے گا۔اس سے بچنا ممکن نہ ہوگا اور اس وقت تمہارا کوئی مدد گار نہیں ہو گا یعنی اس وقت خدائے رحمان بھی تمہاری مدد کو نہیں پہنچے گا۔پس اگر تم اللہ تعالیٰ کی نصرت، اس کی مدد، اس کی مغفرت اور رحمت کے متلاشی ہو تو اسی دنیا میں اپنی نیتوں کو خالص کر کے تمام اعمال