انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 179 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 179

تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۷۹ سورة الزمر اور ہمیں بڑی وضاحت سے ان راہوں کا علم دیا گیا ہے کہ جن پر چل کے اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ اس کی مغفرت اور اس کی رحمت کو حاصل کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى انفهم کہ انسان ضعیف ہے اگر چہ اس کو فطرت صحیحہ دی گئی ہے اور اس کے اندر یہ قوت اور یہ استعدا در کھی گئی ہے کہ وہ اپنے رب کا عبد بنے اور اس کی صفات کا مظہر بنے لیکن اسے یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ چاہے تو اپنے رب کی آواز پر لبیک نہ کہے بلکہ اس سے منہ موڑ لے اور شیطانی راہوں کو اختیار کر لے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت میرے بعض بندوں پر ایسا بھی آتا ہے کہ ان کے دل میں یہ احساس شدت اختیار کرتا ہے کہ انہوں نے فطرت کی آواز کو نہ سنا اور اپنی فطرت صحیحہ کے تقاضوں کو پورا نہ کیا اور جو ہدایت ان کی ربوبیت کے لئے آسمانوں سے نازل کی گی تھی اس پر کان نہ دھرے نہ اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالا اور اس وقت ایسا انسان اپنے گناہوں کو دیکھ کر اپنے دل میں مایوسی کے جذبات پاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید خدا کی رحمت کے دروازے میرے پر بند ہو گئے ہیں تو ان اوقات میں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا تقنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ بتایا ہے کہ میری صفات میں سے ایک صفت غفور ہونے کی اور ایک رحیم ہونے کی ہے، اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ میری رحمت جو ہر دوسری چیز کو اپنے گھیرے اور اپنی وسعتوں میں لئے ہوئے ہے اس سے مایوس نہ ہونا، کیونکہ میں غفور ہونے کی وجہ سے تمہارے گناہوں کو بخش سکتا ہوں اور بخشوں گا اور رحیم ہونے کے لحاظ سے تم پر رجوع برحمت ہوں گا لیکن میری رحمت کے حصول کے لئے جو طریق تمہیں اختیار کرنے چاہئیں وہ میں تمہیں بتا دیتا ہوں اور وہ یہ کہو انبُوا إلى ركھ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے ایک گنہگار بندے پر کہ خدا کی مدد اور نصرت سے وہ محروم ہو چکا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی مدد سے نجات نہیں دلا سکتی وہ وقت وہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی قہری گرفت میں وہ آ جائے جب اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے وہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے قہر کا وہ مورد بن رہا ہو تو واضح ہے کہ کوئی دوسری ہستی اس کی مدد اور نصرت کو پہنچ نہیں سکتی اور جو اس کی مدد کر سکتا تھا اس کی مدد سے اس نے اپنے ہی اعمال کے نتیجہ میں خود کو محروم کر دیا چونکہ انسانی زندگی یا ایک گنہگار کے لئے مرتے وقت یہ وقت ایسا آتا ہے کہ کسی طرف سے بھی اسے مدد نہیں پہنچ سکتی نہ پہنچتی ہے غیر اللہ سے مدد پہنچ نہیں سکتی اللہ کی طرف