انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 175 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 175

تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۷۵ سورة الزمر وہ ہدایت پر قائم نہیں ہوتا اور نہ اس صورت میں اسے کوئی ہدایت پر قائم رکھ سکتا ہے یا یہ ثابت کرسکتا ہے کہ وہ صراط مستقیم کی طرف لے جانے والا اور صراط مستقیم پر اور ہدایت پر قائم ہے۔وَ مَنْ يَهْدِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ تُضِل اور وہ لوگ جو اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کے جواب میں ان ڈرانے والوں کے خوف سے ڈرتے نہیں ان کا ایک ہی نعرہ ہوتا ہے کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہدایت یافتہ ہیں اور جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہدایت یافتہ ہوں ساری دنیا انہیں کافر اور ضال کہتی رہے اور مضل بناتی رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہدایت یافتہ ہے حقیقتاً وہی ہدایت یافتہ ہے عقلاً بھی اور شریعت کی رو سے بھی۔پھر فرمایا النيس اللهُ بِعَزِيزِ ذی انتقام یعنی محض یہ نہیں کہ انسانوں کا ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہدایت سے دور پڑ گیا اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ضَال اور مُضلّ ہو گیا اور دوسرے گروہ کو خدا تعالیٰ نے ہدایت یافتہ پایا اور ہدایت یافتہ قرار دیا۔محض یہاں بات ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اليْسَ اللهُ بِعَزِيز ذی انتقام خدا تعالیٰ کی نگاہ میں جو گمراہ ٹھہرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں جو ہدایت یافتہ ٹھہر تے ہیں ان سب کے اعمال کا نتیجہ نکلتا ہے۔جو گمراہ ٹھہرتے ہیں ان کو ان کی بداعمالیوں کا بدلہ ملتا ہے اور جو ہدایت یافتہ ٹھہرتے ہیں ان کو ان کے اعمال صالحہ کا ثواب ملتا ہے کیونکہ اليْسَ اللهُ بِعَزِيزِ ذِی انتقام کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ عزیز بھی ہے اور ذی انتقام بھی ہے۔عزیز کے معنی ہیں اس طرح پر غالب کہ کوئی اس پر غالب نہ آسکے اور اپنی چلانے والا اور لا يُعْجِزُۂ احد اس کو کوئی عاجز کرنے والا نہ ہو، اس کو عزیز کہتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میرے بندے بن جاتے ہیں اور مجھے ہی کافی سمجھتے ہیں ان کو میں ثواب دیتا ہوں ان کو میں جزا دیتا ہوں۔ان کے لئے میں نے جنتیں بنائی ہیں اور جن کو میں گمراہ ٹھہراتا ہوں ان کو میں سزا دیتا ہوں کیونکہ میں ذی انتقام ہوں ان کی اصلاح کے لئے میرا غضب بھڑکتا ہے۔پھر اگلی آیت میں عزیز اور ذی انتقام کی تشریح اور تفسیر آئی ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والا اللہ ہے اور جو خالق ہے وہی مالک ہے۔اس نے جو کائنات جو عالمین اور ہر دو جہان پیدا کئے ہیں ان پر اس کی حکومت چلتی ہے اس لئے وہی عزیز بھی ہو سکتا ہے اور وہی ذی انتقام بھی بن سکتا ہے۔پس بتاؤ تو سہی کہ مَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللہ کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اِن اَرَادَ نِي اللهُ بِضُر اگر