انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 169
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۶۹ سورة الزمر اطاعت کروں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی دوسری جگہ یہ اعلان بھی کروا دیا۔اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام : ۱۶۴) کہ پہلا مخاطب بھی میں اور سب سے بڑھ کر اطاعت کرنے والا بھی میں ہی ہوں۔اور پہلا مسلم اور مومن بھی میں ہی ہوں اسی لئے یہ اعلان بھی کروادیا کہ اے نبی ! کہہ دو۔قُلِ اللهَ اعْبُدُ مُخْلِصًا له دینی خدا تعالیٰ کے حضور کامل اور انتہائی تذلیل کے ساتھ جھکنے والا اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر اس کی خالص اطاعت کرنے والا بھی میں ہی ہوں۔باقی میں اور آپ ہم سب لوگ اور جو پچھلے چودہ سو سال میں پیدا ہوئے ہیں، ہمیں ہر چیز خلتی اور طفیلی طور پر ملی ہے۔خلی اور طفیلی کے اس مسئلے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہماری جماعت کے بعض دوستوں نے دھوکا کھایا ہے۔کچھ بھی بغیر نظل اور طفیل کے نہیں ملتا۔اور اگر طلقی اور طفیلی رشتہ قائم ہو تو پھر سب کچھیل جاتا ہے۔غرض سورہ زمر کی اس آیت کریمہ اللهُ نَزِّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیث کی رو سے یہ پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی شکل میں ایک بہترین کتاب اتاری ہے، جس نے پہلی صداقتوں کو بھی اپنے اندر لیا ہوا ہے اور ایک نئی اور عظیم تعلیم بھی اس کے اندر پائی جاتی ہے۔انسان کو یہ حکم دیا ( پہلے ذکر آ چکا ہے) کہ کامل عبادت اور حقیقی اطاعت کے سب سامان اور وسائل اس کتاب میں رکھ دیئے گئے ہیں۔لیکن اس کے اثر کو قبول کرنے کے لئے دو چیزیں بڑی ضروری ہیں۔ایک اللہ تعالیٰ کی خشیت اور دوسرے اللہ تعالیٰ سے ذاتی اور خالص محبت اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ ان دونوں چیزوں کی بھی ایک ابتدا ہے۔اور ایک انتہا ہے جسے پانا ( ہر شخص کے دائرہ استعداد میں ) ممکن ہے۔لیکن جو شخص ابتدا نہیں کرتاوہ انتہا تک پہنچنے کی امید نہیں رکھ سکتا۔(خطبات ناصر جلد چهارم ۲۵۴ تا ۲۶۰) قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میرا نزول اس لئے بھی ہے کہ میں گداز دل پیدا کروں جیسا کہ سورۃ الزمر کی چوبیسویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتبًا مُتَشَابِهَا مَثَانِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلى ذِكرِ اللهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ یعنی ہم نے اس احسن الحدیث کو ، اس بہترین ہدایت کو یعنی اس قرآن کریم کو اس کتاب کو جو متشابہ بھی ہے اور مثانی بھی ہے یعنی تمام صداقتوں کو اپنے اندر جمع بھی رکھتی ہے اور جس جس پہلی کتاب کی صداقت اس نے لی ہے اس سے وہ مشابہت رکھتی ہے اور اس کے علاوہ دیگر نہایت اعلیٰ